چرنوبل 1986 -  ،RBMK Turbine Test ری ایکٹر خامیاں، ٹسٹ میں غلطیاں اور افسران کی سزاوں کی کہانی

چرنوبل 1986 -  ،RBMK Turbine Test ری ایکٹر خامیاں، ٹسٹ میں غلطیاں اور افسران کی سزاوں کی کہانی

26 اپریل 1986 کی رات دنیا کے لیے ایک عام رات تھی، مگر سوویت یونین کے نیوکلیئر پاور پلانٹ چرنوبل میں یہ چند گھنٹے تاریخ کے خطرناک ترین لمحات بننے والے تھے۔ یہ کوئی جنگ نہیں تھی، نہ ہی کسی دشمن کا حملہ بلکہ ایک خاموش سائنسی ٹیسٹ تھا جسے محفوظ سمجھا جا رہا تھا۔ مگر اسی ٹیسٹ کے دوران کیے گئے چند غلط فیصلوں، بند کیے گئے حفاظتی نظاموں اور ایک ناقص ری ایکٹر ڈیزائن نے وہ تباہی پیدا کی جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

کیا تھا چرنوبل کا نیوکلیئر ٹیسٹ؟

چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر 4 میں کیا جانے والا تجربہ دراصل ایک سیفٹی ٹیسٹ تھا جسے سائنسی زبان میں Turbine Coastdown Test کہا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کا بنیادی مقصد یہ جانچنا تھا کہ اگر بجلی اچانک بند ہو جائے تو کیا ٹربائن اپنی گھومتی ہوئی رفتار (Rotational Inertia) کی مدد سے اتنی دیر تک بجلی پیدا کر سکتی ہے کہ ری ایکٹر کے کولنگ پمپس (Coolant Pumps) مسلسل چلتے رہیں، جب تک ڈیزل جنریٹرز مکمل طور پر آن نہ ہو جائیں، کیونکہ ان جنریٹرز کو اسٹارٹ ہونے میں تقریباً 40 سے 60 سیکنڈ لگتے تھے، اور اسی خطرناک وقفے کو محفوظ بنانا اس تجربے کا اصل ہدف تھا۔

نیوکلیر ٹیسٹ سے پہلے کی غلطیاں

ٹیسٹ سے پہلے سب سے بڑی غلطی یہ کی گئی کہ ری ایکٹر نمبر 4 کو منصوبے کے مطابق دن کے وقت بند کر کے ٹیسٹ کرنے کے بجائے، کیف (Kyiv) شہر کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسے دن بھر تقریباً 1600 میگاواٹ پاور پر چلایا گیا، کیونکہ اس وقت بجلی کی شدید طلب تھی۔ اسی وجہ سے طے شدہ ٹیسٹ کو مؤخر کر کے رات کے وقت منتقل کر دیا گیا، جب پلانٹ کا تجربہ کار دن کا عملہ جا چکا تھا اور کنٹرول روم میں نسبتاً کم تجربہ رکھنے والی نائٹ شفٹ موجود تھی۔

Xenon-135 کا خطرناک جمع ہونا

کم پاور پر زیادہ دیر چلنے کی وجہ سے ری ایکٹر

میں Xenon-135 جمع ہو گیا، جو نیوٹران جذب کر کے نیوکلیئر ری ایکشن کو دباتا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے آپریٹرز نے سائنسی حد سے زیادہ کنٹرول راڈز باہر نکال دیے، حالانکہ حفاظتی اصولوں کے مطابق کم از کم تعداد میں راڈز کا اندر ہونا لازمی تھا۔

حفاظتی قواعد کی جان بوجھ کر خلاف ورزی

ٹیسٹ کو مکمل کرنے کے دباؤ میں آ کر کئی بنیادی سیفٹی پروٹوکولز کو نظر انداز کیا گیا۔ خودکار شٹ ڈاؤن سسٹمز اور وارننگ سسٹمز کو فعال رکھنے کے بجائے، انہیں عارضی طور پر بند یا نظر انداز کر دیا گیا، تاکہ ری ایکٹر خود بخود بند نہ ہو جائے۔

نائٹ شفٹ کو مکمل تکنیکی بریفنگ نہ دینا

دن کی شفٹ جس نے ری ایکٹر کو طویل وقت تک چلایا تھا، وہ مکمل تکنیکی بریفنگ دیے بغیر روانہ ہو گئی۔ نائٹ شفٹ کے آپریٹرز کو ری ایکٹر کی اصل اندرونی حالت، Xenon Poisoning، اور کم پاور پر موجود خطرات کا مکمل اندازہ نہیں تھا، جو ایک سنگین انتظامی غلطی تھی۔

ناقص ری ایکٹر ڈیزائن سے لاعلمی

RBMK ری ایکٹر کی ایک بڑی سائنسی خامی، یعنی Positive Void Coefficient اور Graphite-tipped Control Rods کے خطرناک اثرات، جن میں یہ خصوصیت شامل تھی کہ جب ایمرجنسی میں راڈز ری ایکٹر میں داخل ہوتے تو پہلے Graphite کے ٹِپس داخل ہو کر ری ایکشن کو مزید تیز کر دیتے تھے، نہ تو آپریٹرز کو مکمل طور پر بتائے گئے تھے اور نہ ہی ٹیسٹ کی منصوبہ بندی میں ان خطرات کو مدِنظر رکھا گیا، جو ٹیسٹ سے پہلے ہی ایک پوشیدہ مگر مہلک غلطی تھی۔

ٹیسٹ کا آغاز — خطرناک تجربے کا پہلا لمحہ

26 اپریل 1986 کی رات جب Turbine Coastdown Test کا آغاز کیا گیا تو بھاپ کی سپلائی ٹربائن کی طرف بند کر دی گئی تاکہ دیکھا جا سکے کہ ٹربائن اپنی گھومتی ہوئی رفتار (Rotational Inertia) سے کولنگ پمپس کو کتنی دیر تک بجلی فراہم کر سکتی ہے، مگر جیسے جیسے ٹربائن کی رفتار کم ہوئی ویسے ہی ری ایکٹر میں پانی

کا بہاؤ گھٹنے لگا اور بھاپ کی مقدار بڑھتی چلی گئی، جو RBMK ری ایکٹر کے لیے انتہائی خطرناک حالت تھی کیونکہ اس میں بھاپ بڑھنے سے نیوکلیئر ری ایکشن تیز ہو جاتا ہے، اسی دوران ری ایکٹر پہلے ہی کم پاور، Xenon-135 کے دباؤ، اور حد سے زیادہ نکالے گئے کنٹرول راڈز کی وجہ سے غیر مستحکم تھا جس کی وجہ سے یکدم زیادہ پاور جنریٹ کرنے لگا۔

ایمرجنسی کا بٹن اور تباہی

جب کنٹرول روم نے طاقت کو قابو میں لانے کے لیے AZ-5 ایمرجنسی بٹن دبایا تو گریفائٹ ٹِپس والے کنٹرول راڈز پہلے ری ایکٹر میں داخل ہوئے جس سے طاقت کم ہونے کے بجائے چند سیکنڈ میں اچانک کئی گنا بڑھ گئی، دباؤ اس حد تک پہنچ گیا کہ پہلے بھاپ کا شدید دھماکہ ہوا اور فوراً بعد دوسرا دھماکہ ہوا جس نے ری ایکٹر نمبر 4 کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

کیا اس ناکام ٹیسٹ پر کسی کو سزا بھی دی گئی؟

چرنوبل کے نیوکلیئر حادثے کے بعد سوویت حکومت نے ایک سرکاری تفتیش کا آغاز کیا، جس میں یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ناکام ٹیسٹ کے دوران حفاظتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی گئی تھی۔ تحقیقات کے بعد چرنوبل پاور پلانٹ کے ڈائریکٹر وِکٹر بریوخانوو، چیف انجینئر نکولائی فومَن اور ٹیسٹ کے نگران اناتولی دیاٹلوف کو غفلت اور اختیارات کے غلط استعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جس کے نتیجے میں ان تینوں کو دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بعد میں سامنے آنے والی سائنسی رپورٹس میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ حادثے کی ایک بڑی وجہ RBMK ری ایکٹر کا ناقص ڈیزائن اور اس سے متعلق معلومات کو خفیہ رکھنا تھا، تاہم ابتدائی طور پر قانونی ذمہ داری انہی افسران پر عائد کی گئی۔

چرنوبل — ایک انتباہ

آخر میں، چرنوبل کا یہ حادثہ نہ صرف ایک ناکام ٹیسٹ کی داستان ہے بلکہ ایک انتباہ بھی ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی طاقتور ہو، انسانی غفلت اور حفاظتی قواعد کی خلاف ورزی اسے تباہی کی راہ پر ڈال