موساد کے آپریشنز : راز، خطرہ اور خفیہ جنگوں کی دنیا
سنہ 1949 میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان نے "موساد" کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد نہ صرف اسرائیل کی حفاظت بلکہ دنیا بھر میں یہودیوں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ اس ایجنسی کی بنیاد رکھتے وقت، اسرائیل نے اپنی قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی اور موساد کو اس کا اہم ستون بنایا۔ نیچے ہم موساد کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر ایک نظر ڈالیں گے ۔
عرب–اسرائیل جنگ میں موساد کے سنسنی خیز آپریشنز
عرب–اسرائیل جنگ میں ایلی کوہین نے 1960s میں شام میں اسرائیل کے لیے خفیہ معلومات فراہم کیں؛ اس نے شامی فوجی منصوبے، کیمپوں کے نقشے اور شہر کے اندرونی راز اسرائیل تک پہنچائے، اور ایک ڈرامائی واقعہ میں شامی صدر کے قریب بیٹھ کر شام کے تمام فوجی منصوبے ریکارڈ کیے، لیکن بالآخر گرفتار ہو کر پھانسی دی گئی، جس کے اعمال نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کو نمایاں فائدہ پہنچایا۔ مےار گلد نے عراق میں ایٹمی پروگرام کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کیں، اور ایک ڈرامائ آپریشن کے دوران رات کے وقت عراق کی ایک خفیہ لیبارٹری میں گھس کر تصاویر اور اہم دستاویزات جمع کیں، جس سے اسرائیل کے دفاعی منصوبوں میں مدد ملی۔ رافائل مور نے لبنان اور فلسطین میں موساد کے مشنز میں حصہ لیا، اور ایک سنسنی خیز واقعے میں فلسطینی گروہوں کے اندرونی راز افشا کیے، ایک اہم قیادت کو اسرائیلی فورسز کے ہاتھ لگانے میں مدد دی، جس سے ایک بڑے ممکنہ حملے کو ناکام بنایا گیا۔
آپریشن اینٹیبے 1976 : موساد کی تیاری اور اثر
سنہ 1976 میں یوگنڈا کے اینٹیبے ہوائی اڈے پر فلسطینی اور جرمن اغواکاروں نے اسرائیلی مسافروں کو یرغمال بنایا۔ موساد نے فوری طور پر آپریشن انتبے کی منصوبہ بندی کی، جس میں اسرائیلی کمانڈوز نے کامیابی سے یرغمالیوں کو
میونخ اولمپکس (1972) کے بعد کاروائی: انتقام اور خفیہ منصوبہ
سنہ 1972 کے میونخ اولمپکس میں فلسطینی دہشت گردوں نے اسرائیلی ایتھلیٹس کو یرغمال بنایا اور قتل کر دیا۔ اس کے بعد، موساد نے "آپریشن غضبِ خدا" کے تحت ان دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جو اس حملے میں ملوث تھے۔ اس خفیہ آپریشن میں موساد کے ایجنٹس نے دنیا بھر میں ان افراد کو تلاش کر کے ان کا قلع قمع کیا۔
ایرانی ایٹمی سائنسدانوں پر حملے: تاریخی اور سائنسی پس منظر
ایران کے ایٹمی پروگرام کو کمزور کرنے کے لیے خفیہ مداخلت کی داستان کئی سطحوں پر چلتی آئی ہے ۔ 2010 میں سامنے آنے والا سٹکس نیٹ کمپیوٹر ورم ایک نیا باب تھا: اس نے نطنز کے سینٹرفیوج کنٹرول سسٹمز میں درز ڈال کر سینکڑوں سینٹری فیوجز کو نقصان پہنچانے کا باعث بنا۔ اسی دہائی میں ایران کے چند معروف ایٹمی ماہرین سلسلہ وار بیرونی حملوں کا نشانہ بنے — بعض کو کار بم سے ہلاک کیا گیا، بعض پر گولیاں چلیں — اور ایران نے بار بار اسرائیل کو قصوروار قرار دیا۔ 2007–2012 کے عہد میں ہونے والی ان ہلاکتوں کا سلسلہ اور تفتیش عالمی توجہ کا مرکز بنا۔
پھر 2021 میں نطنز کے اندرونی حصوں میں ایک مشتبہ (اور بعض ذرائع کے مطابق اسرائیل سے منسوب) حملے نے پھر بحث چھیڑ دی — جہاں بجلی اور کنٹرول سسٹمز کو نشانہ بنا کر ایران کی افزودگی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ سالِ 2024–2025 میں خطے کی تناؤ بھڑکا— بعض رپورٹس میں اسرائیل اور اس کے خفیہ اداروں پر طویل المدتی کارروائیاں اور حتیٰ کہ ہوا بازی کی کارروائیوں تک کا الزام آیا۔
موساد کی
موساد کے پیچھے جو کہانیاں ہیں، اُن میں خالی فاتحانہ قصے نہیں بلکہ کچھ تلخ ناکامیاں بھی درج ہیں — مثلاً وہ دن جب ایلی کوہین جیسا اعلیٰ رتبے کا ایجنٹ شام میں گرفتار ہوا اور 1965 میں پھانسی پایا گیا، جس نے خفیہ نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا دیا۔ پھر 1973 کی لیلہمر واردات رہی، جب ایک غلط شناخت کی وجہ سے معصوم احمد بوشیکی کو مار دیا گیا اور ٹیم کے کئی اراکین پکڑے گئے۔ اسی دہائی میں 1973 کا یومِ کیپور بھی ایک یاد دہانی تھا کہ کبھی کبھی اطلاعات یا فیصلہ سازی ناکافی رہ جاتی ہیں — ایک ایسا اسٹریٹجک شگاف جس نے اسرائیل کو سخت قیمت ادا کروائی۔ بعد کے دور میں بھی خفیہ آپریشن ہمیشہ کامیاب نہیں رہے: 1997 میں خالد مشعل پر کیے جانے والے خفیہ کارروائی کے دوران ایجنٹس پکڑے گئے اور عالمی سطح پر سیاسی بحران پیدا ہوا، جس نے موساد کو سفارتی مصیبت میں ڈال دیا۔ اور جدید دور میں 2010 کی دبئی واردات (محمود المبحوح کا قتل) نے آپریشنل سیکیورٹی کی کمزوری ظاہر کر دی — ٹیم کے کئی اراکین کی تصاویر اور جعلی پاسپورٹ نمونے منظرِ عام پر آ گئے اور بہت سے ممالک نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا۔
اختتامی جائزہ: خفیہ جنگوں کی گونج اور موساد کی میراث
موساد کی تاریخ فتح و ناکامی، راز و خطرو سے بھری ہوئی ہے۔ اس ایجنسی نے عالمی سطح پر متعدد آپریشنز کیے، بعض میں حیران کن کامیابی حاصل کی اور بعض میں تلخ ناکامیاں جھیلی گئیں۔ قارئین کے لیے یہ کہانی صرف اطلاعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک سبق ہے کہ خفیہ دنیا میں ہر لمحہ زندگی اور موت کے درمیان جھولتا ہے، اور صرف انتہائی مہارت، عقل اور جرأت رکھنے والے ہی اسے کامیابی سے انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔