اسرائیل امریکی بحری جہاز لبرٹی کو کیوں ڈبونا چاہتا تھا؟ لبرٹی کا خفیہ مشن کیا تھا؟

اسرائیل امریکی بحری جہاز لبرٹی کو کیوں ڈبونا چاہتا تھا؟ لبرٹی کا خفیہ مشن کیا تھا؟

جون 1967، مشرقِ وسطیٰ کی ریت میں بارود چھپا ہوا تھا۔ اسرائیل، مصر، شام اور اردن کے درمیان تناؤ کئی ماہ سے بڑھ رہا تھا، مگر اصل کھیل پسِ پردہ تھا۔ سوویت یونین نے مصر کو یقین دلایا کہ اسرائیل شام پر حملے کی تیاری کررہا ہے، جس پر جمال عبدالناصر نے صحرائے سینا میں فوجی دستے بھیج دیے، اقوامِ متحدہ کے امن فوجی ہٹوا دیے، اور تیل کی راہ بند کر دی۔ خلیجِ عقبہ کو سیل کر کے اسرائیل کے تجارتی راستے کا گلا دبا دیا۔

دوسری طرف، اسرائیل نے اسے اپنے وجود کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھا۔ واشنگٹن میں امریکی خفیہ ایجنسیاں اسرائیل اور عرب ممالک کی فوجی نقل و حرکت کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کر رہی تھیں۔ امریکہ ظاہری طور پر غیر جانب دار رہا، مگر خفیہ سطح پر اسرائیلی انٹیلیجنس کے ساتھ رابطے جاری تھے۔ یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے یوایس ایس لبرٹی کا مشن جنم لیتا ہے۔ ایک امریکی جاسوسی جہاز جو "مشرقِ وسطیٰ کی ریڈیو خاموشی" میں سچ سننے کے لیے روانہ کیا گیا۔

بحرِ روم میں تنہا جہاز — لبرٹی کا مشن کیا تھا؟

لبرٹی بظاہر امریکی بحریہ کا ایک عام 'ریسرچ شپ' تھی، مگر حقیقت میں یہ ایک تیرتا ہوا جاسوسی مرکز تھا۔ اس کا بنیادی کام دشمن کی ریڈیو، ٹیلی فون اور ٹیلی گراف گفتگو کو خفیہ طور پر سننا اور ریکارڈ کرنا تھا۔ یہ مشن نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے زیرِ انتظام چل رہا تھا، اور جہاز پر موجود بیشتر تکنیکی عملہ دراصل نیوی کے نہیں بلکہ اسی ایجنسی کے کرپٹو اینالسٹ، لسانی ماہر، اور کوڈ بریکنگ ماہرین تھے — وہ لوگ جو دشمن کے سگنلز میں چھپے پیغامات کو 'ڈی کوڈ' کرتے تھے۔

لبرٹی کا مرکزِ عمل مشرقی بحیرۂ روم تھا، جہاں اُس وقت چھ روزہ جنگ اپنے عروج پر تھی۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ اسرائیل، مصر یا سوویت یونین میں سے کوئی فریق جنگ کے دائرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے لبرٹی کو حکم ملا کہ وہ مصر کے ساحل سے تقریباً تیرہ میل دور، مگر "غیر جنگی زون" میں رہ کر تمام ریڈیو مواصلات ریکارڈ کرے۔ جہاز کے پاس پینتالیس اینٹینا تھے، جدید ترین ریسیورز، اور ایک وسیع تجزیاتی لیب — وہ پورے علاقے کے سگنلز سننے کی صلاحیت رکھتا تھا، چاہے وہ قاہرہ کی فوجی کمان ہو، یا اسرائیلی ٹینک کمانڈ کا خفیہ چینل۔

این ایس اے کی اندرونی فائلوں کے مطابق لبرٹی کو خاص طور پر یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اسرائیلی اور مصری افواج دونوں کے ریڈیو نیٹ ورکس پر نظر رکھے۔ یہ وہ نکتہ تھا جس نے مشن کو خطرناک بنا دیا، کیونکہ اسرائیل نہیں چاہتا تھا کہ کوئی غیر ملکی جہاز اس کے جنگی منصوبوں یا زمینی پیش قدمی کی کوڈڈ گفتگو ریکارڈ کرے۔ جہاز کے عملے کو بتایا گیا تھا کہ وہ 'آبزرویشن مشن' پر ہیں — مگر حقیقت میں وہ ایک لائیو وار زون کے عین کنارے جاسوسی کر رہے تھے۔

لبرٹی پر امریکی پرچم نمایاں طور پر لہرا رہا تھا۔ اس کے باوجود، این ایس اے کے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ جہاز کے اندر 'ریڈیو سائلنس' نافذ تھا — یعنی وہ خود کوئی سگنل نہیں بھیج سکتا تھا، صرف سن سکتا تھا۔ اس سے ان کی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی، کیونکہ وہ کسی بھی خطرے کی اطلاع فوری طور پر نہیں دے سکتے تھے۔

امریکی کمانڈ کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جنگ کے دوران اسرائیل اور مصر کے پیچھے کون سی بڑی طاقت سرگرم ہے — خاص طور پر کیا سوویت افواج مصر کی مدد کر رہی ہیں یا نہیں۔ کچھ بعد کی خفیہ رپورٹس کے مطابق لبرٹی نے کئی ایسے سگنلز پکڑے تھے جو اسرائیل کے گہرے آپریشنز کی تفصیلات ظاہر

کرتے تھے، اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب اس کا انجام طے ہو گیا۔

فضا سے موت کی بارش — اسرائیلی فائٹر جیٹس کا پہلا وار

دوپہر کے قریب سورج اپنی پوری شدت سے سمندر پر جھلسا رہا تھا، جب اچانک افق کے کنارے ایک چمکتا ہوا نقطہ ظاہر ہوا — لمحوں میں وہ نقطہ تین بن گیا۔ یہ تھے اسرائیلی فضائیہ کے میسٹر اور میراج فائٹر جیٹس، جو بلندی سے جھپٹتے ہوئے لبرٹی پر آ گرے۔ بغیر کسی وارننگ، بغیر کسی ریڈیو کال، بس ایک ہی آواز — دھماکوں کی گونج۔ آسمان سے آگ برس رہی تھی۔

پہلے حملے میں جہاز پر راکٹوں اور 30 ملی میٹر توپوں کی گولیاں برسیں۔ طیاروں نے انتہائی نیچی پرواز میں جہاز کے ڈیک پر موجود ہر اینٹینا، ہر ریڈار، اور ہر سگنل ریسیور کو نشانہ بنایا۔ ان کا پہلا مقصد واضح تھا — لبرٹی کی "آنکھیں اور کان" بند کر دینا۔ چند لمحوں میں تمام ریڈیو اینٹینا زمین بوس ہو گئے۔ مواصلات کے تمام چینلز خاموش ہو گئے۔ ریڈیو روم 1 سے آخری پیغام نکلا:

"Mayday… This is Liberty… under attack… repeat, under attack!"

اور پھر سگنل کٹ گیا۔ چند لمحوں بعد طیارے واپس پلٹے، مگر اس بار ان کے نیچے نیپام بموں کے کنستر جھول رہے تھے۔ جیسے ہی وہ کھلے، آگ کے دریا نے جہاز کو لپیٹ میں لے لیا۔ نیپام کی لپٹیں لوہے کی دیواروں سے چمٹ کر پگھلا دینے والی آگ بن گئیں۔ ڈیک پر موجود لوگ چیختے ہوئے پانی میں کودنے لگے، مگر نیچے سمندر بھی ابلتا محسوس ہوتا تھا۔ فضا میں جلتی ہوئی پینٹ، دھات اور انسانی گوشت کی بو پھیل گئی۔

جہاز پر امریکی جھنڈا واضح طور پر لہرا رہا تھا۔ مگر فائٹر جیٹس نے پرواہ نہ کی۔ انہوں نے ریڈ کراس کے نشان والے میڈیکل ٹینٹ کو بھی نہیں چھوڑا۔ عملے کے ریکارڈ کے مطابق، ہر بار طیارے نیچے جھپٹ کر ڈیک پر موجود زندہ افراد پر مشین گن فائر کرتے — یہ عمل پندرہ سے بیس منٹ تک جاری رہا۔

ٹارپیڈو بوٹس اور آخری دھماکہ

دوپہر ڈھل رہی تھی۔ لبرٹی کے اطراف فضا دھوئیں، راکھ اور بارود سے بھری ہوئی تھی۔ فائٹر جیٹس کا حملہ تھم چکا تھا، مگر ڈیک پر پڑی لاشوں، زخمیوں کی چیخوں اور جلتی دھات کی بو نے سمندر کو ایک قبرستان بنا دیا تھا۔ عملہ یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید حملہ ختم ہو گیا ہے۔ مگر افق پر پانی کی سطح کے قریب تین تیز رفتار موٹر ٹارپیڈو بوٹس نمودار ہوئیں۔ ان کے سفید جھاگ چھوڑتے پروں پر اسرائیلی بحریہ کے نشان تھے۔

چند لمحوں تک سب نے یہی سوچا کہ مدد آ رہی ہے — مگر جیسے ہی بوٹس قریب آئیں، ان کے سائیڈ گنز حرکت میں آ گئیں۔ انہوں نے مشین گنوں سے براہِ راست فائر شروع کر دیا۔ زخمی عملہ ایک بار پھر ڈیک کے فرش پر گرنے لگا۔ دوپہر 2 بج کر 35 منٹ پر ایک ٹارپیڈو بوٹ نے پانچ ٹارپیڈو فائر کیے — ان میں سے ایک سیدھا لبرٹی کے دائیں حصے سے آ ٹکرایا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا جہاز چند فٹ پانی سے اوپر اچھل گیا۔

اسی دوران ٹارپیڈو بوٹس دوبارہ قریب آئیں، مگر اب لبرٹی کی جانب سے کوئی فائر نہیں ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے ڈیک پر موجود لائف رافٹس پر گولیاں چلائیں — وہی رافٹس جن میں زخمیوں کو نکالنا تھا۔ تین رافٹس پانی میں گرے، دو کو وہ بوٹس اٹھا کر لے گئیں، اور ایک کو فائر سے تباہ کر دیا۔

اس حملے میں 34 امریکی ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔

کپتان میکگونگل کی جنگ — موت اور ایمان کا فاصلہ

جب ٹارپیڈو کے دھماکے نے جہاز کے پہلو کو چیر

ڈالا، تو کپتان ولیم لورنس میکگونگل پل پر اپنی جگہ کھڑا رہا۔ اس کے بازو اور ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا، مگر اُس کی نظریں صرف ایک سمت تھیں — جہاز کو بچانے پر۔ اردگرد ہر طرف چیخیں، آگ، اور پانی کا شور تھا، مگر وہ اپنی کرسی نہیں چھوڑ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر صرف ایک جملہ بار بار آ رہا تھا:

"We're not going down. Not today."

ریڈیو روم تباہ ہو چکا تھا، مگر ایک نوجوان آپریٹر، ٹونی ہارٹنسن، جھلسے ہوئے ہاتھوں سے ایک عارضی اینٹینا جوڑنے میں کامیاب ہوا۔ میکگونگل نے خون سے بھیگی وردی میں جھک کر مائیک پکڑا، اور جہانِ بقا کی آخری چیخ نکالی،

"This is Liberty… we are under attack… need immediate assistance."

یہ پیغام قبرص میں امریکی چھاؤنی تک پہنچا۔ وہاں سے واشنگٹن اور بحیرۂ روم میں موجود امریکی چھٹے بیڑے تک اطلاع گئی۔

امریکی تحقیقات — نیوی کورٹ آف انکوایری

لبرٹی کے زخمی ملاحوں کو واپس وطن لایا گیا، تو انہیں یہ امید تھی کہ انصاف ہوگا۔ مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ یہ کہانی 'دشمن کے حملے' کی نہیں بلکہ سفارتی مصلحت کی بننے جا رہی ہے۔ امریکہ نے واقعے کے فوراً بعد ایک رسمی تفتیش شروع کی — نیوی کورٹ آف انکویری۔ بظاہر یہ ایک آزاد فوجی کمیشن تھا، مگر حقیقت میں اسے صرف ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کا حکم ملا۔

کپتان ویلیم میکگونگل اور زندہ بچ جانے والے عملے نے بیانات دیے، مگر اکثر گواہیوں کو رپورٹ سے نکال دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹ وائٹ ہاؤس پہنچی، تو اس میں اسرائیل کے ارادے پر 'شک' ظاہر کیا گیا تھا۔ مگر صدر لنڈن بی جانسن نے یہ جملہ حذف کروایا۔ نیوی کورٹ آف انکوایری کی حتمی رپورٹ میں درج تھا:

'There is no evidence to prove the attack was deliberate.'

اسرائیلی وضاحت — غلط شناخت یا سوچا سمجھا پیغام؟

اسرائیل نے کہا کہ لبرٹی کو مصری جہاز القیصر سمجھ کر غلطی سے نشانہ بنایا گیا۔ مگر لبرٹی ایک جدید، سفید رنگ کا سگنلز انٹیلیجنس جہاز تھا جس پر واضح طور پر بڑا امریکی جھنڈا لہرا رہا تھا۔

مزید یہ کہ اسرائیل نے فوراً امریکی سفارتخانے سے معافی مانگی اور معاوضہ دینے کی پیشکش کی۔

اسرائیل لبرٹی کو کیوں ڈبونا چاہتا تھا؟

کچھ مبصرین کے مطابق لبرٹی نے اسرائیلی فوجی چینلز پر ایسی گفتگو سنی تھی جس میں جنگی قیدیوں کے بارے میں خوفناک احکامات جاری ہو رہے تھے۔ دعویٰ یہ کیا گیا کہ اسرائیلی بری افواج کے ایک اعلیٰ افسر نے محاذ پر موجود یونٹس کو ہدایت دی کہ:

'قیدی نہ رکھے جائیں — جو ہتھیار ڈالیں، اُنہیں بھی ختم کر دو۔'

غلطی، راز یا جان بوجھ کر حملہ؟

لبرٹی پر حملے کے بعد کئی دہائیوں تک سوال یہی رہا کہ یہ واقعہ واقعی ایک 'غلطی' تھی، یا کچھ زیادہ گہرا اور منصوبہ بندی شدہ؟ مختلف نظریات سامنے آئے: کچھ کہتے ہیں لبرٹی ایک خفیہ امریکی آپریشن کے دوران ہدف بنی تاکہ مصر پر اسرائیلی حملے کے دوران مشاہدہ اور انٹیلیجنس سگنلز حاصل کیے جا سکیں، اور امریکی انتظامیہ اس میں شریک نہ نظر آئے۔ دوسرا نظریہ یہ پیش کرتا ہے کہ یہ حملہ مصر پر دباؤ ڈالنے یا سوویت یونین کو غلط سگنلز دینے کے لیے سوچا گیا تھا — جس میں لبرٹی کے عملے کی جان قربانی کے مترادف تھی۔

میڈیا اور سیاست نے پردہ ڈال دیا۔ امریکی حکومت نے واقعے کو “غلطی” کے بیانیے میں محدود کر دیا، رپورٹس کو کلاسفائیڈ کیا، اور فائلیں غائب ہو گئیں۔ لیکن لبرٹی کی میراث زندہ ہے۔ اس نے نہ صرف بحری فوج کی قربانیوں کو اجاگر کیا، بلکہ عالمی سطح پر یہ سبق بھی دیا کہ سچائی کبھی مکمل طور پر دفن نہیں کی