USS Liberty پر اسرائیل کا حملہ: لبرٹی کا خفیہ مشن اور چھ روزہ جنگ کی راز افشائی
جون 1967 میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل، مصر، شام اور اردن کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ USS Liberty، ایک امریکی جاسوسی جہاز، چھ روزہ جنگ کے دوران خفیہ ریڈیو سگنلز ریکارڈ کرنے اور اسرائیل و عرب ممالک کی فوجی نقل و حرکت و جنگی راز دریافت کرنے کے لیے روانہ ہوا۔
USS Liberty کا مشن: امریکی جاسوسی جہاز کی حقیقت
لبرٹی بظاہر امریکی بحریہ کا ایک عام 'ریسرچ شپ' تھی، مگر حقیقت میں یہ ایک تیرتا ہوا جاسوسی مرکز تھا۔ اس کا بنیادی کام دشمن کی ریڈیو، ٹیلی فون اور ٹیلی گراف گفتگو کو خفیہ طور پر سننا اور ریکارڈ کرنا تھا۔ یہ مشن نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے زیرِ انتظام چل رہا تھا، اور جہاز پر موجود بیشتر تکنیکی عملہ دراصل نیوی کے نہیں بلکہ اسی ایجنسی کے کرپٹو اینالسٹ، لسانی ماہر، اور کوڈ بریکنگ ماہرین تھے — وہ لوگ جو دشمن کے سگنلز میں چھپے پیغامات کو 'ڈی کوڈ' کرتے تھے۔
لبرٹی کا مرکزِ عمل مشرقی بحیرۂ روم تھا، جہاں اُس وقت چھ روزہ جنگ اپنے عروج پر تھی۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ اسرائیل، مصر یا سوویت یونین میں سے کوئی فریق جنگ کے دائرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے لبرٹی کو حکم ملا کہ وہ مصر کے ساحل سے تقریباً تیرہ میل دور، مگر "غیر جنگی زون" میں رہ کر تمام ریڈیو مواصلات ریکارڈ کرے۔ جہاز کے پاس پینتالیس اینٹینا تھے، جدید ترین ریسیورز، اور ایک وسیع تجزیاتی لیب — وہ پورے علاقے کے سگنلز سننے کی صلاحیت رکھتا تھا، چاہے وہ قاہرہ کی فوجی کمان ہو، یا اسرائیلی ٹینک کمانڈ کا خفیہ چینل۔
این ایس اے کی اندرونی فائلوں کے مطابق لبرٹی کو خاص طور پر یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اسرائیلی اور مصری افواج دونوں کے ریڈیو نیٹ ورکس پر نظر رکھے۔ یہ وہ نکتہ تھا جس نے مشن کو خطرناک بنا دیا، کیونکہ اسرائیل نہیں چاہتا تھا کہ کوئی غیر ملکی جہاز اس کے جنگی منصوبوں یا زمینی پیش قدمی کی کوڈڈ گفتگو ریکارڈ کرے۔ جہاز کے عملے کو بتایا گیا تھا کہ وہ 'آبزرویشن مشن' پر ہیں — مگر حقیقت میں وہ ایک لائیو وار زون کے عین کنارے جاسوسی کر رہے تھے۔
لبرٹی پر اسرائیلی حملہ: فضائیہ کی تباہ کن کارروائی
دوپہر کے قریب سورج اپنی پوری شدت سے سمندر پر جھلسا رہا تھا، جب اچانک افق کے کنارے ایک چمکتا ہوا نقطہ ظاہر ہوا — لمحوں

پہلے حملے میں جہاز پر راکٹوں اور 30 ملی میٹر توپوں کی گولیاں برسیں۔ طیاروں نے انتہائی نیچی پرواز میں جہاز کے ڈیک پر موجود ہر اینٹینا، ہر ریڈار، اور ہر سگنل ریسیور کو نشانہ بنایا۔ چند لمحوں میں تمام ریڈیو اینٹینا زمین بوس ہو گئے۔ مواصلات کے تمام چینلز خاموش ہو گئے۔ ریڈیو روم 1 سے آخری پیغام نکلا: "Mayday… This is Liberty… under attack… repeat, under attack!"
نیپام بمباری اور ٹارپیڈو بوٹس: USS Liberty پر موت کی بارش
دوپہر ڈھل رہی تھی۔ لبرٹی کے اطراف فضا دھوئیں، راکھ اور بارود سے بھری ہوئی تھی۔ فائٹر جیٹس کا حملہ تھم چکا تھا، مگر ڈیک پر پڑی لاشوں، زخمیوں کی چیخوں اور جلتی دھات کی بو نے سمندر کو ایک قبرستان بنا دیا تھا۔ عملہ یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید حملہ ختم ہو گیا ہے۔ مگر افق پر پانی کی سطح کے قریب تین تیز رفتار موٹر ٹارپیڈو بوٹس نمودار ہوئیں۔ ان کے سفید جھاگ چھوڑتے پروں پر اسرائیلی بحریہ کے نشان تھے۔
چند لمحوں تک سب نے یہی سوچا کہ مدد آ رہی ہے — مگر جیسے ہی بوٹس قریب آئیں، ان کے سائیڈ گنز حرکت میں آ گئیں۔ انہوں نے مشین گنوں سے براہِ راست فائر شروع کر دیا۔ زخمی عملہ ایک بار پھر ڈیک کے فرش پر گرنے لگا۔ دوپہر 2 بج کر 35 منٹ پر ایک ٹارپیڈو بوٹ نے پانچ ٹارپیڈو فائر کیے — ان میں سے ایک سیدھا لبرٹی کے دائیں حصے سے آ ٹکرایا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا جہاز چند فٹ پانی سے اوپر اچھل گیا۔ ایک زوردار جھٹکے نے جہاز کے درمیان میں تقریباً 40 فٹ چوڑا شگاف کر دیا۔
کپتان ولیم میکگونگل: قیادت اور بہادری کی کہانی
جب ٹارپیڈو کے دھماکے نے جہاز کے پہلو کو چیر ڈالا، تو کپتان ولیم لورنس میکگونگل پل پر اپنی جگہ کھڑا رہا۔ اس کے بازو اور ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا، مگر اُس کی نظریں صرف ایک سمت تھیں — جہاز کو بچانے پر۔ اردگرد ہر طرف چیخیں، آگ، اور پانی کا شور تھا، مگر وہ اپنی کرسی نہیں چھوڑ رہا تھا۔ اس کے اردگرد مرنے

امریکی تحقیقات: نیوی کورٹ آف انکوایری اور سفارتی دباؤ
لبرٹی کے زخمی ملاحوں کو جب واپس وطن لایا گیا، تو اُنہیں یہ امید تھی کہ اب انصاف ہوگا۔ مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ یہ کہانی 'دشمن کے حملے' کی نہیں بلکہ سفارتی مصلحت کی بننے جا رہی ہے۔ امریکہ نے واقعے کے فوراً بعد ایک رسمی تفتیش شروع کی — نیوی کورٹ آف انکویری۔ بظاہر یہ ایک آزاد فوجی کمیشن تھا، مگر حقیقت میں اسے صرف ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کا حکم ملا۔
اسرائیل کی وضاحت: غلط شناخت یا منصوبہ بندی شدہ حملہ؟
اسرائیل کی جانب سے پہلا سرکاری مؤقف یہ تھا: 'لبرٹی کو مصری جہاز القیصر سمجھ کر غلطی سے نشانہ بنایا گیا۔'
یہ بیان سنتے ہی دنیا بھر میں حیرت پھیل گئی، کیونکہ القیصر ایک پرانا، سست رفتار کارگو جہاز تھا، جبکہ لبرٹی ایک جدید، سفید رنگ کا سگنلز انٹیلیجنس جہاز تھا جس پر واضح طور پر بڑا امریکی جھنڈا لہرا رہا تھا۔
USS Liberty کیوں ہدف بنی؟: خفیہ سگنلز اور جنگی راز
جون 8، 1967 کے روز، جب لبرٹی بحرِ روم میں اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کا سامنا کر رہی تھی، اسی دوران سگنلز انٹیلیجنس کے بعض غیر مصدقہ ذرائع میں ایک اور کہانی گردش میں آئی — کہ لبرٹی نے اسرائیلی فوجی چینلز پر ایسی گفتگو سنی تھی جس میں جنگی قیدیوں کے بارے میں خوفناک احکامات جاری ہو رہے تھے۔
غلطی، راز یا جان بوجھ کر حملہ؟
لبرٹی پر حملے کے بعد کئی دہائیوں تک سوال یہی رہا، یہ واقعہ واقعی ایک 'غلطی' تھی، یا کچھ زیادہ گہرا اور منصوبہ بندی شدہ؟ مختلف تھیوریز سامنے آئیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ لبرٹی ایک خفیہ امریکی آپریشن کے دوران ہدف بنی، تاکہ مصر پر اسرائیلی حملے کے دوران مشاہدہ اور انٹیلیجنس سگنلز حاصل کیے جا سکیں۔
میڈیا اور سیاست نے اس واقعے پر پردہ ڈال دیا۔ امریکی حکومت نے فوراً واقعے کو “غلطی” کے بیانیے میں محدود کر دیا، رپورٹس کو کلاسفائیڈ کیا، اور فائلیں غائب ہو گئیں۔ لیکن لبرٹی کی میراث زندہ ہے۔ اس نے نہ صرف بحری فوج کی قربانیوں کو اجاگر کیا، بلکہ عالمی سطح پر یہ سبق بھی دیا کہ سچائی کبھی مکمل طور پر دفن نہیں کی جا سکتی۔