سویت یونین کے ایٹمی ریکٹر چرنوبل میں دھماکہ - وہ رات جب آسمان جل اٹھا
وہ رات عام راتوں جیسی تھی۔ خاموش، پرسکون مگر آسمان کے نیچے، یوکرین کے ایک چھوٹے سے شہر "پرپیات" میں وہ لمحہ جنم لے چکا تھا جو تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔ چرنوبل کے ری ایکٹر نمبر چار میں چند سیکنڈوں کے اندر ایسی آگ بھڑکی کہ رات دن میں بدل گئی۔ نیلا تابناک شعلہ آسمان کو چیرتا ہوا اٹھا، اور انسان کی بنائی ہوئی روشنی نے قدرت کے اندھیروں کو مات دے دی - مگر صرف ایک لمحے کے لیے۔ اگلے ہی پل، زمین نے زہر پیا، ہوا میں موت گھل گئی، اور انسان اپنی ہی ایجاد کے قید خانے میں قید ہو گیا۔
وہ تجربہ جو قیامت بن گیا – حفاظتی ٹیسٹ کی مہلک غلطی
چرنوبل کا حادثہ کسی بم یا دشمن کے حملے کا نتیجہ نہیں تھا- یہ ایک حفاظتی تجربہ تھا، جس کا مقصد ری ایکٹر کے ایمرجنسی سسٹم کو جانچنا تھا۔ انجینئروں نے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اگر بجلی کا نظام اچانک ناکام ہو جائے تو کیا ری ایکٹر اپنی توانائی سے خود کو کچھ دیر تک چلا سکتا ہے یا نہیں۔ مگر یہ تجربہ غلط وقت، غلط حالات اور ناقص فیصلوں کے ساتھ انجام دیا گیا۔
شہر میں رات کے دو بج رہے تھے، کئی حفاظتی سسٹم بند کر دیے گئے تاکہ ٹیسٹ آسانی سے مکمل ہو سکے، اور ری ایکٹر کو غیر معمولی حد تک غیر مستحکم حالت میں پہنچا دیا گیا۔ جب انجینئروں نے طاقت دوبارہ بڑھانے کی کوشش کی تو ایندھن کی سلاخوں میں زبردست حرارت پیدا ہوئی، دباؤ بڑھا، اور چند سیکنڈ بعد ایک دھماکہ ہوا جس نے چھت اڑا دی۔ لوہا پگھل گیا، تابکاری فضا میں بکھر گئی، اور وہ تجربہ جس کا مقصد حفاظت تھا، تاریخ کا سب سے خطرناک حادثہ بن گیا۔
ریاست کی خاموشی اور پرپیات کا المیہ، اعداد و حقائق کی زبان میں
حادثے کے بعد سوویت حکام نے صورتحال کو قابو میں دکھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، مگر حقیقت کہیں زیادہ خوفناک تھی۔ ری ایکٹر نمبر چار کے دھماکے کے نتیجے میں فوری طور پر 31 افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں زیادہ تر انجینئر، فائر فائٹرز اور پلانٹ کے عملے کے لوگ تھے۔ لیکن اگلے برسوں میں، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، تابکاری کے اثرات سے چار ہزار سے زائد اموات واقع ہوئیں۔ حادثے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے تابکاری کو روکنے کے لیے ریت اور سیسہ پھینکنے کا کام شروع کیا گیا۔ مگر ایک ہیلی کاپٹر تابکاری کی شدت اور تیز دھوئیں کی وجہ سے کنٹرول کھو بیٹھا اور ری ایکٹر کے قریب ہی گر کر تباہ ہو گیا۔ اس میں سوار تمام

پرپیات، جو چرنوبل پلانٹ کے قریب ایک خوبصورت اور جدید شہر تھا، اس المیے کا سب سے بڑا شکار بنا۔ تقریباً 50 ہزار لوگ یہاں رہتے تھے۔ زیادہ تر پلانٹ کے انجینئرز اور ان کے خاندان۔ شہر میں اسکول، اسپتال، سینما اور پارک تھے، سب کچھ عام زندگی کی طرح رواں تھا۔ لیکن حادثے کے بعد تین دن تک کسی کو انخلا کا حکم نہیں ملا۔ بچے کھلونوں سے کھیلتے رہے، اور لوگ تابکاری کو صرف “روشنی” سمجھتے رہے۔ جب بسیں آخرکار آئیں، تو شہریوں سے کہا گیا کہ "چند دنوں کے لیے جا رہے ہیں"۔ مگر وہ کبھی واپس نہ آئے۔
پہلا الارم سرحد پار سے، جب دنیا نے چرنوبل کا سچ جانا
چرنوبل کا دھماکہ ہوا، مگر دنیا کو اس کا علم نہیں تھا۔ سوویت حکومت نے حادثہ چھپانے کا فیصلہ کیا، سرکاری ٹی وی پر خاموشی تھی۔ مگر قدرت نے جھوٹ کو زیادہ دیر چھپنے نہ دیا۔ حادثے کے تقریباً دو دن بعد، 28 اپریل 1986 کو، سویڈن کے شہر فورس مارک کے ایٹمی پلانٹ میں کام کرنے والے انجینئروں نے اچانک اپنے ریڈی ایشن ڈیٹیکٹرز میں غیر معمولی تابکاری دیکھی۔ پہلے خیال ہوا کہ ان کے اپنے پلانٹ میں کوئی خرابی ہے، لیکن جب چیک کیا گیا تو صاف پتا چلا کہ تابکاری کا منبع کہیں اور ہے- سوویت یونین کے اندر سے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے پہلی بار چرنوبل کا نام سنا۔ جب دباؤ بڑھا تو ماسکو نے مجبوری میں تسلیم کیا کہ "ایک ایٹمی حادثہ پیش آیا ہے۔" مگر اس وقت تک تابکاری کے بادل مشرقی یورپ کے اوپر سے گزر چکے تھے، اسکینڈے نیویا تک پہنچ گئے تھے، اور پورا براعظم ایک نادیدہ زہر کی لپیٹ میں تھا۔ دنیا بھر میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
لیگو اور لازر - ہیرو یا مجرم؟
چرنوبل کے حادثے کے وقت دو نام سب سے زیادہ متنازع مگر اہم بن گئے۔ اناتولی دیاتلوف، نکولائی فومَن، اور وکٹر بریخانوف۔ مگر عام طور پر ان میں سے دو کو عوامی بیانیے میں لیگو اور لازر کے ناموں سے یاد کیا گیا۔ یہ وہ انجینئرز اور منتظمین تھے جنہوں نے اُس رات حفاظتی ٹیسٹ کی نگرانی کی، اور جن کے فیصلوں نے ری ایکٹر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
سرکاری طور پر انہیں غفلت اور حکم عدولی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ تینوں پر مقدمہ چلا، اور انہیں 10 سال تک کی سزا سنائی گئی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ سچائی کے کئی پہلو سامنے آئے۔ کہ وہ صرف نظام کے تابع افراد تھے، جن پر اوپر سے دباؤ ڈالا گیا تھا کہ پلانٹ کسی بھی

ری ایکٹر کا قہر — جب ہوا، پانی اور زمین زہر بن گئے
چرنوبل کے دھماکے کے بعد زمین ایک زہریلی آغوش میں بدل گئی۔ ری ایکٹر سے خارج ہونے والی تابکاری نے نہ صرف فضا کو بلکہ مٹی، درختوں، پانی، اور ہر جاندار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً دو لاکھ مربع کلومیٹر علاقہ تابکار مواد سے متاثر ہوا۔ قریب کے دیہاتوں اور شہروں میں ہزاروں کسانوں کو اپنے گھروں اور کھیتوں سے نکال دیا گیا۔ ان علاقوں میں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی نقص، دل اور خون کی بیماریوں کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ کئی ماؤں کا دودھ تابکار ہو گیا، اور انہیں اپنے ہی بچوں کو دودھ پلانے سے منع کیا گیا۔
تابکاری کو قید کرنے کی جنگ — چرنوبل کا فولادی قبرستان
جب دھماکے نے ری ایکٹر کو تباہ کیا، تو فوری طور پر تابکاری نے فضا، زمین اور پانی کو زہر آلود کر دیا۔ لاکھوں ٹن مٹی، دھات اور کنکریٹ اس مقام پر پھینکے گئے تاکہ آگ اور تابکاری کو کسی حد تک قابو میں لایا جا سکے۔ مگر اصل خطرہ وہ ری ایکٹر تھا جو اب بھی اندر سے تابکاری خارج کر رہا تھا۔ 1986 کے بعد سوویت انجینئرز نے اسے "سرکو فگس" یعنی کنکریٹ کے ایک دیو ہیکل خول میں بند کر دیا- ایک عارضی قید خانہ جسے وقت کے ساتھ زنگ اور دراڑوں نے کمزور کر دیا۔
بعد ازاں، بین الاقوامی سائنسدانوں اور انجینئرز نے 2016 میں ایک نیا فولادی خول تیار کیا، جسے "New Safe Confinement" کہا گیا۔ یہ جدید ساخت 108 میٹر اونچی، 162 میٹر لمبی اور 36,000 ٹن وزنی ہے — جسے پرانے سرکو فگس کے اوپر لا کر فٹ کیا گیا تاکہ تابکاری مزید نہ پھیلے۔ اس فولادی ڈھانچے کے اندر ری ایکٹر کے ملبے کو آہستہ آہستہ ختم کرنے اور تابکاری کو قابو میں رکھنے کے لیے روبوٹس اور خودکار نظام نصب کیے گئے ہیں۔
آگ جو اب بھی زمین کے نیچے جل رہی ہے
چرنوبل کا ری ایکٹر بند ضرور ہو چکا، مگر اس کے یورینیم راڈز اب بھی دھیرے دھیرے گل رہے ہیں — زمین کے نیچے، اندھیروں میں، جہاں درجہ حرارت اب بھی زندگی کو جلا سکتا ہے۔ تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی تابکاری کی آگ مکمل بجھی نہیں۔ یہ وہ خاموش دہک ہے جو انسان کے غرور، سائنس کی حدود، اور فطرت کے انتقام کی علامت بن چکی ہے۔ چرنوبل آج بھی یاد دلاتا ہے کہ کچھ آگیں صرف وقت نہیں، سچائی بھی جلاتی ہیں۔