خضرت محمدﷺ کا صحابی - خالد بن ولیدؓ - سیفُ اللہ کا لقب پانے والا مردِ آہن

خضرت محمدﷺ کا صحابی - خالد بن ولیدؓ - سیفُ اللہ کا لقب پانے والا مردِ آہن

نوٹ: خالد بن ولیدؓ کی پوری زندگی کو ایک مضمون میں سمو دینا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ ہم نے تو محض ان کی شاندار حیات کا ایک قطرہ آپ کے سامنے رکھا ہے۔ امید ہے آپ کو پسند آییگی۔

خالد بن ولیدؓ وہ نام ہے جس نے عرب کی ریت کو تاریخ میں بدل دیا۔ عرب کے عظیم گھرانے بنو مخزوم میں پیدا ہونے والا یہ شخص بچپن ہی سے بہادری، سرعتِ فیصلہ اور جنگی ذہانت میں اپنی مثال آپ تھا۔ مگر اصل عظمت اس وقت سامنے آئی جب اسلام نے ان کے دل کا راستہ پا لیا۔ قبولِ اسلام کے بعد وہ وہی ہاتھ، جو پہلے اسلام کے خلاف اٹھتے تھے، اللہ کے دین کی حفاظت کا سب سے بڑا سہارا بن گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں “سیفُ اللہ” — اللہ کی تلوار کا خطاب دیا، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ تلوار کبھی ناکام نہ ہوئی، کبھی مایوس نہ لوٹی، اور جس محاذ پر چمکی اُس نے نقشہ بدل کر رکھ دیا۔

 ابتدائی زندگی اور قریش میں مقام

خالد بن ولید قریش کے طاقتور قبیلے بنو مخزوم میں پیدا ہوئے، جہاں بچپن سے ہی لڑائی، گھڑ سواری اور جنگی حکمتِ عملی اُن کی تربیت کا حصہ بن گئی۔ قریش میں ان کے خاندان کو فوجی ستون سمجھا جاتا تھا، اور خالد اسی ستون کا وہ جوان تھے جس کی آنکھ میں چمک، چلن میں دبدبہ اور ذہن میں عسکری چالاکی بھری ہوئی تھی۔ جب اسلام پھیلنے لگا تو خالد اس کے سخت مخالف بنے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ نئی دعوت قریش کی برتری، تجارتی طاقت اور عرب کے روایتی نظام کو بدل ڈالے گی۔ اس لیے وہ ہر اُس محاذ پر صفِ اوّل میں کھڑے نظر آئے جہاں مسلمانوں کا نام آتا تھا۔

جنگِ اُحد — خالد کی جنگی ذہانت

اُحد وہ مقام تھا جہاں خالد کے اندر چھپا ہوا عظیم جرنیل پہلی بار دنیا کو صاف نظر آیا۔ اس جنگ میں وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے بلکہ قریش کے لشکر کے سوار دستے کی قیادت کر رہے تھے۔ جنگ کے ابتدائی لمحات میں مسلمانوں نے برتری حاصل کر لی، قریش کی صفیں ٹوٹنے لگیں اور لوگ پسپا ہونے لگے، مگر خالد جیسا شخص صرف شکست نہیں دیکھ رہا تھا — وہ زمین، پہاڑیوں، صف بندیوں اور مسلمانوں کی حرکات کو عقابی نظر سے پڑھ رہا تھا۔

اس نے فوری طور پر ایک بات محسوس کی کہہ اُحد کے دامن میں وہ چھوٹی پہاڑی (جبلِ عینین) مسلمانوں کے دفاع کا تالا ہے۔ اگر یہ کمزور ہوا تو پوری جنگ کا دروازہ کھل جائے گا۔ مسلمانوں کے تیر اندازوں کو رسول اللہ ﷺ نے سخت تاکید کی تھی کہ کسی حالت میں مقام مت چھوڑنا، لیکن جب قریش پیچھے ہٹنے لگے تو کچھ تیر انداز مالِ غنیمت کے خیال میں نیچے اتر آئے۔

یہ لمحہ وہ تھا جس کا خالد انتظار کر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ پہاڑی تقریباً خالی ہو چکی ہے — اور پھر جیسے آندھی چل پڑے، خالد نے اپنی پوری سوار فوج کو جھٹکے سے موڑا، ایک قوس دار زاویے سے پہاڑی کے پیچھے سے چکر لگایا اور پوری قوت سے حملہ بول دیا۔ ان کا حملہ اتنا اچانک، اتنا تیز اور اتنا درست تھا کہ پہاڑی پر موجود چند باقی ماندہ تیر انداز بھی کھڑے نہ رہ سکے۔

خالد نے پہلی ہی ضرب میں مسلمانوں کی پشت پر راستہ کھول لیا۔ پھر انہوں نے اپنے سواروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا— ایک دستہ پہاڑی کے پاس سے گھس آیا اور دوسرا مسلمانوں کی مرکزی صف کے عقب میں جا بیٹھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مسلمانوں کو دو طرف سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور جنگ کا نقشہ پلٹ گیا۔ خالد کا وار صرف تلوار کا نہیں تھا، وہ فوجی ذہانت کا وار تھا۔ بعد میں خود خالد نے کہا تھا-

'اگر مسلمان تیر انداز اپنی جگہ سے نہ ہٹتے تو اُحد میں ہم کبھی کامیاب نہ ہوتے۔ میں نے اسی کمزوری کو نقطۂ وار بنایا۔'

جنگِ اُحد کی کامیابی نے قریش میں خالد کا رتبہ آسمان پر پہنچا دیا، مگر ساتھ ہی یہ واقعہ اُن کے دل میں ایک سوال بھی چھوڑ گیا- "آخر محمد ﷺ نے وہ کمزوری کیوں محسوس نہ ہونے دی جو ہم نے دیکھی؟" یہی سوال بعد میں ان کے ایمان کی بنیاد بنا۔

اسلام قبول کرنا - جب دل کی جنگ ختم ہوئی، اور دنیا بدل گئی

خالد بن ولید جنگِ اُحد کے بعد قریش کے ہیرو بن چکے تھے۔ ہر محفل میں اُن کا نام عزت، خوف اور حکمت کا استعارہ مانا جاتا تھا، مگر دل کے اندر ایک عجیب بےچینی پیدا ہو گئی تھی۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ مسلمانوں کا نظم، بہادری اور ایمان کسی بھی عام لشکر جیسا نہیں۔ اُحد کی جیت کے باوجود خالد کے سینے میں ایک سوال مسلسل چبھتا رہا-

'محمد ﷺ کے ساتھی شکست کے وقت بھی کیوں نڈھال نہیں ہوتے؟ وہ آخر کس قوت پر بھروسہ کرتے ہیں؟'

اُحد کے بعد جنگِ خندق آئی۔ خالد ایک بہترین جنگی دماغ تھے، لیکن اس بار وہ حیران تھے کہ مدینہ کے باہر مسلمانوں نے ایک ایسا دفاعی نظریہ استعمال کیا جو عرب نے کبھی نہ دیکھا تھا— خندق۔ خالد سمجھ گئے کہ یہ قائد صرف تلوار سے نہیں سوچتا، بلکہ ایسے فیصلے کرتا ہے جو پورے عرب کے ذہنوں کو بدل سکتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ خالد کو ہلا دینے والا واقعہ جنگ نہیں، امن تھا۔ حدیبیہ میں جب مسلمان بغیر لڑے واپس لوٹے تو قریش نے مذاق اڑایا، مگر خالد نے خاموشی اختیار کی۔ وہ سوچ رہے تھے۔

'اگر یہ لوگ مکہ فتح کرنا چاہتے تو لڑ پڑتے۔ یہ تو امن چاہتے ہیں… اور امن طاقتور لوگوں کی پہچان ہے، کمزوروں کی نہیں۔'

انہوں نے مسلمانوں کے لشکر کے نظم و ضبط کو دیکھا— صفیں، اتحاد، وقار… اور پھر ایک عجیب بات کہ ہر مسلمان کی آنکھ میں محمد ﷺ کے لیے ایسی محبت تھی جو خالد نے کسی بادشاہ، سردار یا لیڈر کے لیے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

یہ منظر خالد کے ذہن میں گھر کر گیا۔ پھر وہ لمحہ آیا جس نے خالد کو بدل کر رکھ دیا — بدر، اُحد اور خندق دیکھنے والا جرنیل اب سوچ رہا تھا کہ… "کیا یہ واقعی اللہ کی مدد ہے؟"

کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمان کم تعداد میں بھی اکثر فیصلہ کن اثرات پیدا کر دیتے ہیں۔ آخر ایک دن خالد نے قریش کے سرداروں سے کہا: کہ 'تم محمد ﷺ کی مخالفت کر کے فائدہ کچھ نہیں اُٹھا رہے۔ محمد ﷺ کا راستہ روکنا اب ممکن نہیں رہا۔'

قریش کے سردار چونکے — لیکن خالد کے دل میں اللہ نے نور ڈال دیا تھا۔ اب ان کا دل

ضد کی جگہ سچ کی تلاش میں تھا۔ مگر پھر ایک اور عجیب واقعہ ہوا…

خالد نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک تنگ و تاریک وادی میں کھڑے ہیں۔ سامنے ایک شخصیت ہے جو کہہ رہی ہے- 'اے خالد! اس اندھیرے سے نکل کر روشنی کی طرف آؤ۔' جب خالد جاگے تو دل ہلکا محسوس ہوا۔ اُس روشنی کی تعبیر انہیں خوب سمجھ آگئی تھی۔

خالد نے چپکے سے مکہ چھوڑا، راستے میں ان کی ملاقات عثمان بن طلحہ سے ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے، اور خالد بولے کہ "خدا کی قسم، اب حق واضح ہو چکا ہے۔ چلو محمد ﷺ کے پاس چلتے ہیں۔"

دونوں گھوڑے دوڑاتے ہوئے مدینہ کی طرف گئے۔ راستے میں عمرو بن العاص بھی مل گئے جو یہی سوچ رہے تھے کہ اب حق سے انکار ممکن نہیں۔ جب تینوں مدینہ پہنچے تو خالد کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ کیا رسول اللہ ﷺ مجھے معاف کر دیں گے؟ کیا میں، جس نے اُحد میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی، وہ مجھے قبول کر لیں گے؟

وہ تاریخی منظر — جب خالد ﷺ کے سامنے کھڑے تھے

رسول اللہ ﷺ اس وقت مسجد میں بیٹھے تھے۔ خالد اندر داخل ہوئے تو دل کانپ رہا تھا۔ انہوں نے کہا- یا رسول اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ وہ سب راستے جو میں نے اختیار کیے، غلط تھے۔ آپ میرے لیے دعا فرما دیں۔

رسول اللہ ﷺ نے مسکرا کر فرمایا کہ اے خالد! اسلام گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ خالد! مجھے یقین تھا کہ عقل اور شجاعت تمہیں اسلام تک ضرور لے کر آئیں گی۔ یہ وہ جملہ تھا جس نے خالد کا دل اشکبار کر دیا۔ وہ زمین پر جھکے اور بولے، 'یا رسول اللہ! جو میں نے مسلمانوں کو اُحد میں نقصان پہنچایا…؟'

آپ ﷺ نے فرمایا، 'خدا وہ سب معاف کر چکا۔ اب تم اللہ کی تلوار ہو… سیفُ اللہ!'

اور یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ بدل گئی — جس شخص نے مسلمانوں کے خلاف جنگی نقشے بنائے تھے، اب وہ اسلام کا سب سے بڑا سپہ سالار بننے والا تھا۔

پہلا معرکہ: جنگِ موتہ میں ناقابلِ یقین بہادری

خالد بن ولیدؓ نے اسلام قبول کیا تو ایک ایسا وقت تھا جب اسلام ابھی مدینہ تک محدود تھا اور دشمن کی طاقت زیادہ تھی۔ یمن کی طرف بڑھتے ہوئے موتہ کا معرکہ پہلا موقع تھا جب نوجوان خالدؓ کو براہِ راست قیادت اور جنگ میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔

جب حضرت محمد ﷺ نے انہیں لشکر کا کمانڈر مقرر کیا، تو کچھ صحابہ کو حیرت ہوئی۔ کیونکہ خالد ابھی نیا مسلمان ہوا تھا، اور اُحد میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑا تھا۔ کئی لوگ سوچنے لگے- 'کیا یہ وہی شخص ہے جس نے اُحد میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تھا؟ اب اسے لشکر کا کمانڈر بنانا درست ہوگا؟'

مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

'میں جانتا ہوں وہ کس حد تک شجاع اور ہوشیار ہے۔ اس کی عقل اور بہادری اللہ کے دین کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہوگی۔'

موتہ کے میدان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً تین ہزار افراد تھی، جبکہ دشمن کا لشکر بیس ہزار سے زیادہ رومی اور عرب مسیحی فوجیں پر مشتمل تھا۔ خالدؓ نے فوراً لشکر کو صف بندی میں ڈالا، ہر دستے کی جگہ اور حملے کی ترتیب بتائی۔ ان کے ہاتھ میں ایک تلوار تھی، لیکن سب سے بڑی طاقت ان کی عسکری حکمت اور نظم و ضبط تھی۔

جنگ کے دوران خالدؓ نے کئی حملوں کی قیادت ذاتی طور پر کی، دشمن کے گھڑ سوار دستوں میں گھس کر صفیں بکھیر دیں۔ کئی مرتبہ ان کا گھوڑا مارا گیا، لیکن وہ پیچھے نہ ہٹے۔ ایک موقع پر دشمن نے ان کے لشکر کے عقب پر حملہ کیا، مگر خالد نے فوراً دائرہ بنایا اور دشمن کو گھیر لیا۔
شاید یہی وہ مقام تھا جہاں ان کی سیف اللہ — اللہ کی تلوار کے لقب کی شروعات ہوئی۔ دشمن نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ خالد کو الگ کر کے مار دیا جائے، مگر ہر بار وہ کامیاب رہے۔ ان کی بہادری اور حکمت نے مسلمانوں کو صرف دشمن کے مقابلے میں نہیں، بلکہ اپنی ہمت میں بھی مضبوط کیا۔

مسلمانوں نے اس معرکے میں حقیقت میں اپنی کم تعداد کے باوجود اثر ڈال دیا۔ خالدؓ کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ شجاعت، حکمت اور ایمان کے امتزاج سے ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ اس جنگ نے مسلمانوں کے دلوں میں خوف کو ہٹا کر اعتماد اور اتحاد پیدا کیا۔

جنگِ یرموک — رومی سلطنت کی شکست

خالد بن ولیدؓ کی سب سے مشہور فتوحات میں جنگِ یرموک (۶۳ هجری / ۶۶۱ء عیسوی) سب سے نمایاں ہے۔ یہ جنگ شام کے میدانوں میں لڑی گئی، جس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۳۵,۰۰۰ تھی، جبکہ رومی فوج کے دستے ۱۰۰,۰۰۰ سے زائد تھے۔

خالد نے اپنی غیر معمولی حکمت عملی اور چالاکی سے دشمن کی بڑی تعداد کے باوجود مسلمانوں کی فتح یقینی بنائی۔
اس جنگ میں انہوں نے لچکدار صف بندی، گھیراؤ کی تکنیک، اور دشمن کے کمزور پہلو کو پہچان کر نشانہ بنایا۔
رومی فوج کو کئی دنوں تک مسلسل دباؤ میں رکھا، حتیٰ کہ وہ آخرکار پسپا ہونے پر مجبور ہوئے۔ یرموک کی فتح نے نہ صرف شام میں مسلمانوں کا تسلط قائم کیا، بلکہ رومی سلطنت کے مشرقی حصے پر ان کا دباؤ ختم کر دیا۔ یرموک کے بعد خالدؓ نے عراق اور فارس میں بھی شاندار فتوحات حاصل کیں۔

خالد بن ولیدؓ کی رات کی شاندار حکمتِ عملی

یہ واقعہ شام کے علاقے مرجُ الصَّفَر میں پیش آیا، جو دمشق کے قریب واقع ایک اہم میدان تھا۔ فتوحاتِ شام کے دوران جب مسلمانوں کا سامنا رومی لشکر سے ہوا، تو تعداد میں کم ہونے کے باوجود خالد بن ولیدؓ نے اپنی بے مثال حکمتِ عملی سے میدان پلٹ دیا۔

انہوں نے رات کے اندھیرے میں ایک چال چلتے ہوئے سواروں کو مشعلیں پکڑوا دیں اور لشکر کو مختلف سمتوں سے حرکت دی، جس سے دشمن کو یوں محسوس ہوا کہ بہت بڑا مسلمان لشکر انہیں گھیر چکا ہے۔ رومی فوج خوف و ہراس میں منتشر ہوگئی اور بغیر بڑی لڑائی کے مسلمانوں نے فتح حاصل کی۔ یہ واقعہ نہ صرف خالدؓ کی بہادری بلکہ ان کی جنگی ذہانت کا بھی روشن ثبوت ہے۔

فتوحاتِ عراق

مسلمان لشکروں کو منظم کر کے انہوں نے قادسیہ، کوفہ اور بصرہ کے علاقے فتح کیے۔ خالد کی حکمت یہ تھی کہ وہ دشمن کی کمزوری کا فوری فائدہ لیتے اور اپنی فوج کی تھکن کو کم کرنے کے لیے فوجی سپاہیوں کی

جگہ اور روٹیشن پر خصوصی توجہ دیتے۔

فتوحاتِ فارس
فارس کے سخت دشمن بھی خالد کی فوجی مہارت کے سامنے رک گئے۔ انہوں نے لشکر کی صف بندی، تیز حملے اور گھیراؤ کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے دشمن کو شکست دی۔ یہاں بھی خالد نے اپنی قیادت میں چھوٹی تعداد کے لشکر سے بڑے اور مضبوط دشمن پر کامیابی حاصل کی۔

دمشق، اردن اور شمالی شام کی فتحیں

خالد بن ولیدؓ نے شام کے شمالی حصوں میں بھی لشکروں کی قیادت کی۔ انہوں نے دمشق کے اہم قلعے، قصبے اور راہداری فتح کیے۔ ان کی فتوحات کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ قتل و غارت کے بجائے حکمت، روانی اور جلدی فیصلہ پر زیادہ زور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ ان کی فوج سے خوفزدہ تو تھے، مگر احترام اور فرمانبرداری بھی رکھتے تھے۔

خالدؓ کی تمام فتوحات میں سب سے اہم عنصر حکمت، تیز فیصلہ، اور دشمن کی کمزوری کا فائدہ لینا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی فوج کی حفاظت اور تھکن کم کرنے کے طریقے سوچتے تھے، تاکہ لشکر زیادہ دیر تک موثر رہ سکے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایمان اور قابلیت سے چھوٹے لشکر بھی بڑے دشمن پر غالب آ سکتے ہیں۔ ان کی فتوحات نے اسلامی سلطنت کو مشرق کی جانب وسیع اور مضبوط بنایا، اور مسلمانوں کے دلوں میں حوصلہ بڑھایا۔

سیفُ اللہ کی معزولی — ایک سبق آموز واقعہ

خالد بن ولیدؓ نے اپنی زندگی میں بے شمار فتوحات حاصل کیں، ہر معرکہ ان کی شجاعت، حکمت اور ایمان کی گواہی دیتا تھا۔ ان کی قیادت میں لشکروں نے رومی سلطنت، عراق، فارس، شام اور یرموک کے میدانوں میں فتح حاصل کی۔ ان کا نام 'سیفُ اللہ — اللہ کی تلوار' تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مگر تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کامیابی اور طاقت کے ساتھ عاجزی اور فرمانبرداری ضروری ہے۔ اسی کا مظاہرہ ہوا جب حضرت عمر بن خطابؓ نے خالد بن ولیدؓ کو لشکری قیادت سے معزول کرنے کا فیصلہ کیا۔

حضرت عمرؓ کی یہ کارروائی ایک عادل حکمران کے اصول کا عملی مظاہرہ تھی، نہ کہ خالدؓ کی صلاحیت پر کسی اعتراض کی نشاندہی۔ حضرت عمرؓ کا مقصد یہ تھا کہ فتح اور طاقت کے باوجود کسی بھی سپہ سالار کی خودمختاری حد سے تجاوز نہ کرے اور فوجی شہرت اور طاقت کی بنیاد پر حکومت یا فیصلہ سازی میں زیادتی نہ ہو۔

خالد بن ولیدؓ کی شخصیت کا سب سے بڑا پہلو یہ تھا کہ انہوں نے معزولی پر نہ صرف صبر کیا بلکہ خوش دلی سے فرمانبرداری اختیار کی۔ انہوں نے کبھی غرور یا احتجاج نہیں کیا۔ بلکہ اپنے آپ کو حضرت عمرؓ کی عدالت میں حاضر کیا اور فرمایا-
'اے امیر المؤمنین! میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے لڑتا رہا ہوں، اور اب آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا۔''

خالد بن ولیدؓ کی خوشدلی سے معزولی کا اثر یہ ہوا کہہ ان کے جانے کے بعد لشکروں میں ترتیب اور فرمانبرداری برقرار رہی، اسلامی ریاست میں قیادت کے اختیارات کا توازن قائم رہا اور خالدؓ کی شہرت اور احترام کم نہ ہوا — بلکہ اس عمل نے ان کے اخلاق اور عظمّت کو بڑھایا۔

حسنِ کردار: عاجزی، اور صحابہ سے تعلق

خالد بن ولیدؓ کی بہادری اور فتوحات کے باوجود ان کا سب سے نمایاں پہلو ان کی عاجزی اور اخلاقیات تھی۔ ان کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنو مخزوم سے تھا، جس میں والد ولید بن مغیرہ اپنی جرات اور تجارتی طاقت کے لیے مشہور تھے۔ والد کی وفات کے بعد، خالدؓ نے خاندان کی عزت اور ذمہ داری کو ہمیشہ سنبھالا، مگر کبھی اس طاقت میں غرور یا تکبر نہیں آنے دیا۔ ان کے خاندان میں بہادری اور فیصلہ سازی کی روایت تھی، لیکن خالدؓ نے اسے ایمان اور شرافت کے ساتھ جوڑا۔

صحابہ کرامؓ کے ساتھ ان کے تعلقات بھی بے مثال تھے۔ اگرچہ بعض صحابہ نے ان کے اسلام قبول کرنے کے وقت کچھ تحفظات ظاہر کیے، مگر خالدؓ نے ہمیشہ عاجزی، فرمانبرداری اور تعاون کے ساتھ سب کے دل جیتے۔ وہ کبھی کسی کے ساتھ غرور یا تکبر کا مظاہرہ نہیں کرتے، بلکہ ہر فیصلے میں شورائے صحابہ اور رسول اللہ ﷺ کی رہنمائی کو مقدم رکھتے۔

آخری ایام — میدانِ جنگ کے شیردل کا جذباتی انتقال

خالد بن ولیدؓ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اسلام کے سب سے بڑے سپہ سالاروں میں سے ایک سمجھے جاتے تھے۔ اگرچہ وہ کئی فتوحات کے بعد بھی جوانی کی توانائی کے ساتھ لڑتے رہے، مگر بڑھتی عمر نے انہیں جنگ کے نئے میدانوں میں کم شرکت کرنے پر مجبور کیا۔ ان کے آخری دن مدینہ میں گزارے گئے، جہاں وہ اپنی صحت خراب ہونے کے باوجود بھی عبادت، قرآن کی تلاوت اور صحابہ کے ساتھ مشورے میں مصروف رہتے تھے۔
ان کا انتقال ایک خاموش، پر وقار اور جذباتی واقعہ تھی۔ آخری وقت میں جب لوگ انہیں دیکھنے آئے تو ان کے جسم پر پرانے زخموں کے گہرے نشان زندگی کی پوری جنگی تاریخ سنا رہے تھے۔ روایت ہے کہ انہوں نے اپنی زرہ کھول کر کہا تھا،
"میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر تلوار، نیزے یا تیر کا زخم نہ ہو… مگر آج میں بستر پر مر رہا ہوں، جس طرح ایک معمولی انسان مرتا ہے۔ کاش میں شہید ہوتا!"

یہ الفاظ سن کر ان کے آس پاس موجود لوگ رو پڑے، مگر خالدؓ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ "موت سے ڈرنا نہیں چاہیے، کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اگر میدانِ جنگ نے بھی مجھے نہ مارا، تو انسان کو سمجھ لینا چاہیے کہ موت بہادری یا کمزوری نہیں دیکھتی، وہ اپنے وقت پر آتی ہے۔"

خالد بن ولیدؓ کی شخصیت سے آج کے انسان کا سبق

خالد بن ولیدؓ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ شجاعت اور قابلیت کے ساتھ عاجزی، ایمان، اخلاقیات اور فرمانبرداری لازمی ہیں۔ وہ شخص جو میدانِ جنگ میں سب سے آگے کھڑا ہو، جو فتوحات حاصل کرے، اور دشمن کو لرزائے، اگر اخلاق، عبادت اور لوگوں کے ساتھ تعلق نہ رکھے تو حقیقی عظمت حاصل نہیں کر سکتا۔
آج کے انسان کے لیے یہ سبق بہت واضح ہے: کامیابی صرف طاقت یا مہارت سے نہیں آتی، بلکہ کردار، عاجزی، ایمانداری اور دوسروں کے ساتھ تعاون سے حاصل ہوتی ہے۔ خالدؓ نے یہ ثابت کیا کہ ایک شخص، چاہے کتنی ہی بڑی ذمہ داری یا طاقت رکھتا ہو، اگر وہ اصولوں پر قائم رہے اور دوسروں کا احترام کرے، تو اس کی کامیابی اور اثر ہمیشہ دیرپا رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خالد بن ولیدؓ نہ صرف ایک عظیم سپہ سالار بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور روحانی مثال بھی ہیں، جن سے ہر دور کے انسان سبق لے