حضرت عثمان غنیؓ - سلسلہ خلفاے راشدین کے تیسرے خلیفہ، سادگی، سخاوت اور شہادت کی کہانی

        حضرت عثمان غنیؓ - سلسلہ خلفاے راشدین کے تیسرے خلیفہ، سادگی، سخاوت اور شہادت کی کہانی

حضرت عثمان بن عفانؓ اسلام کے تیسرے خلیفہ تھے اور ان کی خلافت 644ء سے 656ء تک رہی۔ وہ اپنی نرم مزاجی، بلند اخلاق اور بے حد سخاوت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ نہ صرف دولت مند تھے بلکہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بھی سب سے آگے رہے۔

ابتدائی زندگی

حضرت عثمانؓ قریش کے امیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور تجارت میں بہت کامیاب تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنی دولت اور وسائل کو اسلام کے فروغ میں لگایا۔ ان کی بیوی حضرت رقیہؓ اور بعد میں حضرت حفصہؓ، دونوں نبی ﷺ کی بیٹیاں تھیں، جو ان کے قریبی تعلقات کو ظاہر کرتی ہیں۔

خلافت کے دوران مشکلات

حضرت عثمانؓ کی خلافت کے دوران انہیں کئی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کی نرمی اور صبر کے باوجود شدت اختیار کر گئے۔ انہوں نے اسلامی ریاست کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد انتظامی اصلاحات کیں، گورنروں کی تقرری اور مالی انتظامات کو منظم کیا، اور قرآن کی یکسان تدوین کر کے مستقبل کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا، لیکن بعض علاقوں میں بدعنوانی اور کچھ لوگوں کی ذاتی مفادات کی وجہ سے ناراضگی پیدا ہو

گئی۔

شہادت

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت 17 جون 656ء (یعنی 18 ذوالحجہ 35 ہجری) کو مدینہ منورہ میں ان کے گھر پر ہوئی۔ طویل عرصے تک مظاہرین نے ان کے گھر کا محاصرہ کیا، پانی اور کھانے سے روک دیا اور بالاخر ان کے گھیرے میں تشدد کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ کئی دنوں تک یہ محاصرہ اور احتجاج جاری رہا، جس میں حضرت عثمانؓ نے کسی بھی مسلمان کا خون بہانے سے انکار کیا اور اپنے محافظین کو بھی تحمل اختیار کرنے کا حکم دیا، کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے خلاف خونریزی ہو۔

بالآخر اسی روز کچھ باغی اور شورش پسند افراد نے پیچھے سے دیواریں عبور کرکے ان کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ جب ان تک پہنچا گیا تو حضرت عثمانؓ قرآن مجید کی تلاوت اور روزہ کے ساتھ اپنے کمرے میں موجود تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے ان کی تلوار سے سر پر وار کیا اور پھر دوسرے حملہ آور نے ان پر بار بار حملے کیے۔

روایات کے مطابق حضرت عثمانؓ کے خون کے چند قطرے قرآن پاک کے صفحے پر گرے جن میں ایک آیت "فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ…" لکھی تھی

جو ایک خاص معنوی علامت سمجھی جاتی ہے۔

حضرت عثمانؓ کی بیوی سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا نے ان کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی، اپنی ہاتھوں کو تلوار کے حملوں سے بچانے کے لیے آگے رکھا جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں، پھر بھی حملہ آوروں نے حضرت عثمانؓ کو بے دردی سے شہید کر دیا۔

تاریخی ماخذ بتاتے ہیں کہ قاتلوں میں بعض افراد جیسے سودان بن حمران (اسود بن حمران)، رومان الیمانی اور کنانہ بن بشر نامی لوگ شامل تھے جن میں سے کوئی بھی صحابی نہیں تھا، بلکہ شورش اور سازش کے شکار بے امن افراد تھے جو بغاوت میں ملوث تھے۔

ان کی شہادت نہ صرف ان کے خاندان اور صحابہ کے لیے غمناک تھی بلکہ اس واقعے نے امت مسلمہ میں انتشار (بغاوت اور فتنہ) کی ابتدا کی، جس کے بعد خلافت کے نظام اور سیاسی کشمکش میں گہرے اختلافات پیدا ہوئے۔

حضرت عثمانؓ کی زندگی اور شہادت ہمیں صبر، سخاوت اور قربانی کا عظیم سبق دیتی ہے۔ وہ نہ صرف دولت مند اور بااخلاق خلیفہ تھے بلکہ اپنی نیک نیتی اور اللہ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔