حضرت عمر فاروقؓ - اسلام کے دوسرے خلیفہ کی خلافت اور شہادت کی تفصیل
حضرت عمر فاروقؓ اسلام کے دوسرے خلیفہ تھے، مگر ان کی اصل پہچان عدل، جرأت اور خوفِ خدا تھی۔ وہ حکمران جن کے فیصلوں نے ریاست کی بنیادیں مضبوط کیں اور جن کی زندگی انصاف کی علامت بنی۔ آج ہم اسی عظیم ہستی کی شہادت کے اس واقعے پر گفتگو کریں گے جس نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا اور امت کو ایک گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔
دورِ خلافت
حضرت عمر فاروقؓ، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد 634ء (13 ہجری) میں خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور 644ء (23 ہجری) تک امتِ مسلمہ کی قیادت کرتے رہے۔ ان کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاست ایک منظم اور طاقتور سلطنت کی صورت اختیار کر چکی تھی، جس کی سرحدیں جزیرۂ عرب سے نکل کر شام، مصر، عراق اور فارس تک پھیل چکی تھیں۔
اس وسیع و عریض ریاست کے باوجود حضرت عمرؓ نے اقتدار کو سہولت نہیں بلکہ امانت سمجھا۔ عدل و احتساب کا ایسا سخت نظام قائم کیا کہ خود خلیفہ راتوں کو عام شہری بن کر مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے، رعایا کے حالات پوچھتے اور اگر کہیں بھوک، ظلم یا ناانصافی نظر آتی تو اس کا حساب سب سے پہلے خود سے لیتے۔
شہادت کا المناک واقعہ
26 ذوالحجہ 23 ہجری کی صبح مدینہ منورہ ایک غیر معمولی سکوت میں ڈوبا ہوا تھا۔ مسجد نبوی ﷺ میں فجر

اس نے نہایت تیزی اور بے رحمی سے حضرت عمرؓ پر پے در پے چھ کاری وار کیے۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود حضرت عمرؓ نے نماز کو منقطع ہونے سے بچانے کی کوشش کی اور فوراً حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا تاکہ نماز مکمل ہو سکے۔ اس دوران قاتل نے اندھا دھند حملے کرتے ہوئے مزید تیرہ نمازیوں کو زخمی کیا جن میں سے کئی بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب ابو لؤلؤ نے خود کو ہر طرف سے گھرا ہوا دیکھا تو اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسی خنجر سے اپنی جان لے لی۔
آخری وصیت اور آخری الفاظ
قاتلانہ حملے کے بعد جب حضرت عمر فاروقؓ شدید زخمی حالت میں زمین پر تھے تو سب سے پہلا سوال جو ان کی زبان سے نکلا وہ یہی تھا "کیا نماز ہو گئی ہے؟" جب انہیں بتایا گیا کہ نماز ادا کر لی گئی ہے تو انہوں نے وہ تاریخی جملہ فرمایا جس نے ان کی پوری زندگی کا خلاصہ بیان کر دیا: "جس
انہی آخری لمحات میں حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کو بلایا اور نہایت سادگی اور جواب دہی کے ساتھ وصیت فرمائی کہ میرا کفن سادہ رکھا جائے، بیت المال سے لیا گیا ہر قرض ادا کیا جائے، اور میری وجہ سے کسی انسان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہونے پائے۔ یہ وصیت اس عظیم خلیفہ کے کردار کی آخری گواہی تھی، جو زندگی بھر بھی عوام کے سامنے جواب دہ رہا۔
تدفین اور عظمتِ مقام
حضرت عمر فاروقؓ کی وفات کے بعد ان کی تدفین کے لیے حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا سے اجازت لی گئی۔ ان کی تدفین مسجد نبوی ﷺ میں ایسے مقام پر کی گئی جہاں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ پہلے سے مدفون تھے۔
یوں تین عظیم ہستیاں ایک جگہ آرام پا گئیں، جو نہ صرف اسلامی تاریخ کے لیے ایک منفرد علامت ہے بلکہ امت مسلمہ کے دلوں میں عدل، قربانی اور رہنمائی کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ اس مقام نے بعد کے دور میں ہر مسلمان کے لیے عدل اور تقویٰ کی اعلیٰ مثال کے طور پر اہمیت حاصل کی اور حضرت عمرؓ کی زندگی و شہادت کو ہمیشہ زندہ رکھا۔