خالد بن ولیدؓ کی تلوار، اور باطل کا آخری سانس - مسيلمہ کذاب بنو حنیفہ کا فریب کار نبی
اسلام کے ابتدائی دور میں عرب ایک ایسے دوراہے پر کھڑا تھا جہاں ایمان اور فتنے کی جنگ اپنے عروج پر تھی۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت نے اندھیروں میں روشنی پھیلائی۔ مگر جیسے ہی اسلام کا سورج چمکا، کچھ دلِ بیمار اور اقتدار کے بھوکے لوگوں نے اپنی جھوٹی نبوتوں کے چراغ جلانے کی کوشش کی۔ ان فتنہ پروروں میں سب سے خطرناک اور فریب کار نام مسيلمہ کذاب کا تھا — ایک ایسا شخص جس نے اپنی خواہشِ اقتدار کو نبوت کا لبادہ اوڑھا دیا، اور اپنے قبیلے کو گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔
آئیے، آج ہم مسيلمہ کذاب کی زندگی، اس کے فتنے، اور اس کے عبرت ناک انجام پر تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں۔
نبوت کا جھوٹا دعویٰ — کیسے اور کیوں؟
مسيلمہ کا تعلق بنو حنیفہ قبیلے سے تھا جو یمامہ کے علاقے میں آباد تھا۔ یہ قبیلہ طاقتور، خوشحال اور اپنی زمینوں پر فخر کرنے والا تھا۔ مسيلمہ ذہین مگر فریب کار انسان تھا، جو لوگوں کے نفسیاتی پہلوؤں کو سمجھ کر اپنی چالیں چلتا۔ ابتدا میں وہ اسلام لایا، مگر دل میں حسد اور اقتدار کی ہوس چھپی ہوئی تھی۔ نبی ﷺ کی مقبولیت دیکھ کر اس نے سوچا کہ اگر نبوت کا تاج خود کے سر پر ہو، تو قبیلہ بنو حنیفہ عرب میں سر اٹھا کر چل سکے گا۔
مسيلمہ نے اپنے قبیلے کو جھانسہ دینے کے لیے کہا کہ "مجھے بھی وحی آتی ہے۔" اُس نے قرآن کے انداز میں جھوٹے کلام گھڑنے شروع کیے — مگر اس کے الفاظ میں وہ نور، وہ فصاحت، وہ روحانی وزن نہ تھا جو کلامِ الٰہی میں ہے۔ اس نے اپنے لوگوں کو یہ باور کرایا کہ محمد ﷺ کو بھی آدھی نبوت ملی ہے اور آدھی مجھے۔ یہ بات عام عرب کے لیے حیران کن تھی، مگر بنو حنیفہ کے قبائلی غرور نے اس کو مان لیا۔ اس طرح ایک جھوٹے نبی کی بنیاد رکھی گئی۔
نبی ﷺ کے دور میں مسيلمہ کی چالیں اور خطوط
نبی اکرم ﷺ

وہ کہتا، “مجھے بھی فرشتے آ کر پیغام دیتے ہیں”، اور پھر وہ فضول اور مضحکہ خیز الفاظ گھڑتا جو قرآن کی فصاحت کے مقابلے میں ریت کے ذروں کی مانند بے وزن تھے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ اور یمامہ کی جنگ
نبی ﷺ کے وصال کے بعد جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں ارتداد کی لہریں اٹھیں، یمامہ کا واقعہ ایک سنگین امتحان بن کر سامنے آیا۔ مسيلمہ کذاب نے نہ صرف دعوائے نبوت کو مضبوط کیا بلکہ ایک بڑی فوج بھی اکٹھی کر لی تھی، جس کے اطراف میں اس کے خوشدل حامیوں کا ایک طاقتور قبیلہ موجود تھا۔ اسلام کی سربلندی کے لیے سیدنا ابوبکرؓ نے بہادری اور حکمت کے ساتھ کارروائی کا فیصلہ کیا اور براہِ راست کمانڈ کے لیے حضرت خالد بن ولیدؓ کو مقرر فرمایا۔
خالدؓ کی چھاؤنی تیزی، نظم و ضبط اور تیز گشت والی سواریاں اس معرکے کی کلید تھیں۔ وادیِ یمامہ کے سخت موسم اور تیز رفتاری میں دونوں لشکروں نے آمنے سامنے مقابلہ کیا؛ فضا میں تکبیر کی آوازیں گونجیں، نیزے اور تلواروں کی چمک بکھری ہوئی تھی، اور میدانِ جنگ تیزی سے خون سے رنگین ہو گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے کئی نامور صحابہ اور حافظِ قرآن اس معرکے میں شریک ہوئے — اتنے قریبی جانوں کا نذرانہ دینا اس قدر بھاری ثابت ہوا کہ بعد میں قرآن کے جمع و تدوین کے فیصلے کی راہ ہموار ہوئی۔
جنگ کے عروج پر، ایک مؤثر حملے میں حضرت وحشیؓ

مسيلمہ کا انجام — ایک جھوٹ کا عبرت ناک خاتمہ
جب مسيلمہ زمین پر گرا، تو اس کے اردگرد جنگِ یمامہ کی دھول، خون اور آہوں کا طوفان چھایا ہوا تھا۔ فضا میں "اللہ اکبر" کی گونج اب بھی بلند تھی، مگر مسيلمہ کے کانوں میں وہ آوازیں گویا قیامت کی گھنٹیاں بن کر بج رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں اقتدار کے خواب ریزہ ریزہ آئینے کی طرح ٹوٹے ہوئے تھے، اور چہرے پر وہ غرور ماند پڑ چکا تھا جس نے اسے جھوٹی نبوت کے زعم میں مبتلا کیا تھا۔ اس کے ماننے والے بکھر چکے تھے، کچھ قید میں، کچھ موت کے گھاٹ اترے، اور کچھ توبہ کے آنسو بہا رہے تھے۔ یوں جھوٹ کی وہ عمارت جو فریب اور دھوکے کے ستونوں پر کھڑی تھی، ایک جھٹکے میں زمین بوس ہو گئی۔
مسيلمہ کا انجام تاریخ کے اوراق پر عبرت کا نشان بن گیا۔ یہ اس بات کی ابدی گواہی ہے کہ نبوت اللہ کی عطا ہے، انسان کی خواہش نہیں۔ جس نے بھی اس پاک منصب کو دنیاوی طاقت اور شہرت کے لیے استعمال کرنا چاہا، اُس کا انجام ہمیشہ ذلت، شکست اور فنا کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور یوں یمامہ کے میدان میں، ایک جھوٹ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا — جبکہ حق کا پرچم ہمیشہ کی طرح سر