سوویت فوج کا وہ سپاہی جو افغانستان میں رہ گیا - سوویت افغان جنگ میں گینادی حکیموف کی مکمل کہانی
انیس سو باسٹھ کی 14 مارچ کو، سوویت یوکرین کے صنعتی شہر دنیپروپیٹروفسک میں گینادی وکٹرَوِچ (Gennadi Viktorovych) پیدا ہوا۔ ریاستی کنٹرول، فیکٹریوں کی دھمک اور عسکری نظم و ضبط میں پلنے والی اس نسل کے لیے فوج میں جانا ایک ذاتی انتخاب نہیں بلکہ ریاستی تقاضا تھا۔
3 جون 1980 کو، اٹھارہ برس کی عمر میں، گینادی نے باضابطہ طور پر سوویت ریڈ آرمی میں لازمی فوجی سروس جوائن کی۔ چند ہی ہفتوں بعد، وہ اس فہرست میں شامل تھا جسے کریملن نے بین الاقوامی فرائض کے نام پر افغانستان کی جنگ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا — ایک ایسی جنگ جسے کاغذوں میں محدود اور میدان میں بے رحم سمجھا جاتا تھا۔
افغانستان میں تعیناتی — سوویت افغان جنگ کا آغاز
ستمبر 1980 میں ابتدائی تربیت مکمل ہونے کے بعد، گینادی وکٹرَوِچ کو باضابطہ طور پر 40ویں سوویت آرمی کے اُس دستے میں شامل کر دیا گیا جو افغانستان میں تعینات تھا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں وہ ازبکستان کے فوجی اڈے سے فضائی راستے کے ذریعے بگرام ایئربیس پہنچا، جہاں سے اسے کابل اور لغمان کے درمیان سرگرم یونٹ کے حوالے کر دیا گیا۔
گینادی کی ذمہ داریوں میں قافلوں کی حفاظت، پہاڑی راستوں پر گشت، اور دیہی علاقوں میں سرچ آپریشن شامل تھے۔ یہ تعیناتی وقتی نہیں تھی؛ اس کی سروس تقریباً اٹھارہ ماہ پر محیط رہی، جس دوران اس نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل نقل و حرکت اور جھڑپوں کا سامنا کیا۔
کاغذی طور پر یہ مشن “امن کی بحالی” کہلاتا تھا، مگر زمینی حقیقت

گھات، زخم اور گرفتاری
1982 کے اوائل میں، لغمان کے پہاڑی علاقے میں ایک معمول کی گشتی کارروائی کے دوران، گینادی کا دستہ مجاہدین کی منظم گھات (ambush) کا شکار ہوا۔ تنگ وادی، اوپر سے فائر اور نیچے محدود نقل و حرکت — سوویت دستہ چند منٹوں میں بکھر گیا۔
اسی جھڑپ کے دوران گینادی کے بائیں کندھے اور ران میں گولیاں لگیں، جس کے بعد وہ پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے یونٹ سے کٹ گیا۔ شدید خون بہنے اور گولہ بارود ختم ہونے کے باعث وہ مزاحمت جاری نہ رکھ سکا۔
کچھ گھنٹوں بعد، مقامی مجاہدین نے علاقے کی تلاشی کے دوران اسے نیم بے ہوشی کی حالت میں پایا۔ اسے ہلاک کرنے کے بجائے ابتدائی طبی امداد دی گئی اور قریبی پہاڑی پناہ گاہ کی طرف منتقل کر دیا گیا — یہ وہ لمحہ تھا جب گینادی عملی طور پر سوویت فوجی ریکارڈ سے غائب ہو گیا۔
قید کے بعد نئی زندگی کا فیصلہ
زخموں سے صحت یاب ہونے کے بعد، گینادی کو مجاہدین کے ایک ایسے گروہ کے حوالے کر دیا گیا جہاں قیدیوں کے ساتھ سلوک حالات اور رویّوں کے مطابق بدلتا رہتا تھا۔ ابتدائی مہینے سخت نگرانی، خاموشی اور عدم اعتماد میں گزرے۔
وقت کے ساتھ اس نے مقامی زبان سیکھی، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور وہ حقیقت سمجھی جو اسے کبھی سوویت بریفنگ رومز میں نہیں بتائی گئی تھی۔ انہی

چند برس بعد، اسی علاقے کے ایک خاندان سے اس کا رشتہ جڑا اور اس کی شادی فاطمہ نامی ایک افغان خاتون سے ہوئی۔ اس کے ہاں دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئے، جن کی پرورش جنگ کے سائے میں مگر مقامی اقدار کے مطابق ہوئی۔
شناخت، الزامات اور واپسی کا تنازع
دو دہائیوں تک گینادی ایک گمنام زندگی جیتا رہا، یہاں تک کہ 2000 کی دہائی میں اس کا سراغ ایک افغان مترجم اور سابق سوویت فوجیوں پر تحقیق کرنے والے یوکرینی صحافی کو ملا۔
لاپتہ سپاہیوں کی فہرستیں، زبانی روایات اور سرکاری دستاویزات — سب نے مل کر اس کی شناخت دوبارہ ثابت کر دی۔ مگر واپسی پر اسے جذباتی خیرمقدم کے بجائے الزامات اور شکوک کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ حلقوں نے اسے غدار کہا، کچھ نے بزدل — جبکہ ریاستی تفتیش میں اس کے خلاف کوئی مسلح تعاون ثابت نہ ہو سکا۔ شناخت تو ملی، مگر قبولیت نہیں۔
چند ماہ بعد، گینادی نے ایک بار پھر افغانستان واپسی کا فیصلہ کیا — خاموشی کے ساتھ۔
انجام — لاپتہ سپاہیوں کی خاموش یاد
آج بھی افغانستان کی پہاڑیوں میں سوویت یونین کے ہزاروں لاپتہ سپاہیوں کے نام درج نہیں۔ اندازوں کے مطابق دس ہزار سے زائد فوجی اس جنگ کے بعد کبھی واپس نہ آ سکے۔
گینادی حکیموف کی کہانی ان میں ایک زندہ مثال ہے — ایک انسان جو جنگ، ریاست اور تاریخ کے درمیان اپنی انسانیت بچا سکا۔