قندہار کا سرخ قلعہ۔ افغانستان میں انگریز دور کا ایک بھولا ہوا راز
افغانستان کی سرزمین نے تاریخ میں کئی سلطنتوں کو نگل لیا۔ مگر قندہار کے جنوب میں واقع ایک پرانا قلعہ آج بھی خاموشی سے ایک ایسا راز چھپائے بیٹھا ہے جس نے دنیا کے ماہرینِ جنگ، مورخین اور ماہرینِ غیب سب کو حیران کر دیا۔ یہ ہے 'سرخ قلعہ'، وہ جگہ جہاں کبھی برطانوی فوج کا ایک مکمل دستہ داخل ہوا… اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔
جب برطانیہ نے قندہار کے دروازے کھولے — ایک خاموش جنگ کا آغاز
سنہ 1879-1880، دوسری انگلوافغان جنگ اپنے عروج پر تھی۔ برطانوی سلطنت، جس کے قدم ہندوستان سے لے کر افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے، اب افغانستان کی خاموش سرزمین پر اپنی طاقت آزمانا چاہتی تھی۔ قندہار، اُس وقت کا سنہری قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ ایران، بلوچستان اور کابل کے درمیان ایک ایسا سنگم جہاں سے پورے خطے کی سیاست کا توازن بدل سکتا تھا۔
اسی دوران، برطانوی کمان نے ایک دستہ (تقریباً 349 فوجی، 4 افسران، اور 2 مقامی مترجم) سرخ قلعے کی نگرانی کے لیے روانہ کیا۔ ان کے ساتھ خوراک، گولہ بارود، گھوڑے، نقشے، اور ایک چھوٹا ریڈیو سگنل اسٹیشن بھی موجود تھا تاکہ لندن اور قندہار ہیڈکوارٹر سے مسلسل رابطہ رکھا جا سکے۔
ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ برطانوی فوجی اپنی مخصوص لال وردی میں صبح کی پریڈ کرتے، پہاڑی کنارے پر پہرہ دیتے، اور شام کو قلعے کے اندر کیمپ فائر کے گرد بیٹھ کر اپنے ملک کی یادیں تازہ کرتے۔ لیکن مقامی لوگ ان کے بارے میں کچھ اور ہی سوچتے تھے۔ چند سپاہیوں نے بتایا کہ قلعے کی دیواروں سے رات کے وقت ہلکی سرسراہٹ یا دھات کی کھنک سنائی دیتی ہے، جیسے نیچے کچھ حرکت کر رہا ہو۔ مگر کوئی سنجیدگی سے نہ لیتا۔
جب خاموشی نے چیخ بن کر جنم لیا — قندہار کا پراسرار دن
تاریخ 16 اگست 1880- وہ دن جب قندہار کے آسمان پر سورج معمول سے زیادہ سرخ طلوع ہوا۔ صبح آٹھ بجے کابل ہیڈکوارٹر نے سرخ قلعے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر جواب میں صرف خاموشی ملی۔ یہ غیر معمولی تھا، کیونکہ برطانوی فوج میں ریڈیو خاموشی صرف دو صورتوں میں ہوتی تھی: یا تو دشمن نے حملہ کر دیا ہو، یا سب مر چکے ہوں۔
دوپہر تک ایک چھوٹا تحقیقی دستہ روانہ کیا گیا۔ جب وہ قلعے کے قریب پہنچے تو انہیں سب کچھ عجیب لگا۔ دروازے بند نہیں تھے، مگر قلعہ اندر سے دھواں سا اُگل رہا تھا جیسے اندر کچھ جلا ہو، مگر آگ کا کوئی نشان نہ تھا۔ دیواروں پر کالے دھبے، اور زمین پر ریت کی ایک ہلکی سی پرت… جس میں قدموں کے نشان آدھے نظر آ رہے تھے، آدھے غائب۔ گویا کوئی چیز انہیں

اندر کا منظر ناقابلِ یقین تھا۔ بندوقیں قطار میں رکھی تھیں، جیسے سپاہی کسی حکم کا انتظار کر رہے ہوں۔ چائے کے کپوں میں اب بھی ہلکی بھاپ تھی۔ گھوڑے بندھے ہوئے مگر بےچین، وہ مسلسل ناک سونگھ رہے تھے، زمین کھرچ رہے تھے، جیسے کچھ دیکھ رہے ہوں جو انسانوں کو نظر نہیں آتا۔
جب وہ قلعے کے مرکزی ہال میں پہنچے، تو دیوار پر زنگ آلود خون سے کچھ لکھا ہوا تھا: "They… under… light…" مگر الفاظ ادھورے تھے، جیسے لکھنے والا آخری لمحے میں غائب ہوگیا ہو۔
نیچے فرش میں ایک بالکل نئی درز دیکھی گئی، ایسی جیسے زمین خود پھٹ گئی ہو۔ اس درز سے ہلکی سرخ چمک اور گرم ہوا نکل رہی تھی۔ مگر کسی نے نیچے جھانکنے کی ہمت نہ کی۔ اگلے دن پورا قلعہ سیل کر دیا گیا اور برطانوی حکومت نے اس واقعے کو "کلاسفائیڈ" قرار دے دیا۔ کہانی ختم… یا شاید شروع۔
عینی شاہدین — سرخ روشنی، گمشدگی اور واپسی کی سرگوشیاں
قندہار کے قدیم باشندے آج بھی جب شام ڈھلتی ہے تو سرخ قلعے کا نام آہستہ آواز میں لیتے ہیں۔ ان کے چہروں پر خوف کی لکیر کھنچ جاتی ہے، اور آنکھوں میں وہ منظر جھلکنے لگتا ہے جس نے پورے قندہار کو لرزا دیا تھا۔
بوڑھے چرواہے ملّا عبدالرحیم، جنہوں نے اس واقعے کے وقت قلعے کے قریب رات گزاری تھی، کہتے ہیں: "ہم نے آسمان کو سرخ نہیں دیکھا، بلکہ زمین کو دیکھا جو اندر سے جل رہی تھی۔"
چند چرواہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس روشنی کے اندر حرکت کرتی سایہ دار اشکال دیکھی تھیں، صبح جب لوگ وہاں پہنچے تو صرف راکھ اور مٹی تھی، مگر کچھ فاصلے پر ریت پر بنے عجیب نشان ملے۔ پاؤں کے نشان نہیں، بلکہ دائرے، جیسے کوئی بھاری چیز نیچے اتری ہو یا اوپر گئی ہو۔ ایک مقامی نے دعویٰ کیا کہ اس نے قلعے سے پانچ میل دور برطانوی وردی پہنے ایک شخص کو دیکھا جو اکیلا میدان میں بھٹک رہا تھا، چہرہ راکھ سے بھرا اور آنکھیں شیشے کی طرح خالی تھیں۔ جب وہ قریب گیا، تو وہ شخص دھند میں گھل گیا۔
برطانوی ریکارڈز کے مطابق، اگلے تین سالوں میں قندہار کے اطراف میں چھ نامعلوم لاشیں ملیں، کپڑے انگریزی وردی جیسے، مگر جسم گلنے کی بجائے سیاہ پتھر کی طرح سخت ہو چکے تھے۔ سائنسدانوں نے ان لاشوں کو لندن بھیجا، مگر وہاں بھی رپورٹ "Unexplained" لکھی گئی۔
مگر یہ سب صرف آغاز تھا۔ مقامی داستانوں میں کہا جاتا ہے کہ ہر پچاس سال بعد قلعے کے نیچے سے وہی سرخ روشنی دوبارہ ابھرتی ہے، اور اس کے ساتھ سپاہیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں

ماہرین کی رائے — سائنس کی حد کے پار کا راز
جب قندہار کے سرخ قلعے کی گمشدگی کی فائل دوبارہ کھولی گئی تو دنیا بھر کے ماہرینِ ارضیات، فوجی مؤرخین اور سائنسدان حیرت میں پڑ گئے۔ کچھ نے اسے خالصتاً سائنسی واقعہ قرار دیا، جبکہ دوسروں نے کہا، "یہ کہانی فزکس نہیں، کسی اور جہان کی ہے۔"
پہلا نظریہ یہ تھا کہ یہ علاقہ زیرِ زمین گندھک، یورینیم اور ریڈیو ایکٹیو عناصر سے بھرا ہوا تھا۔ ممکن ہے رات کے وقت کسی قدرتی عمل سے گیس یا ریڈی ایشن کا شدید اخراج ہوا ہو جس نے لمحوں میں پورے برطانوی دستے کو ہلاک کر دیا۔ ریڈی ایشن کی شدت نے ان کے جسم تحلیل کر دیے، کپڑے جلا دیے، اور ہتھیار زنگ میں بدل گئے۔
مگر اس مفروضے کی کمزوری واضح تھی: اگر ریڈی ایشن اتنی طاقتور تھی، تو آج قلعے کے اردگرد درخت، گھاس، یا جانور زندہ کیسے ہیں؟
پھر افغان اور روسی محققین نے 1970 کی دہائی میں قلعے کے نیچے کھدائی کی۔ وہاں سے یورینیم روڈز اور دھاتی سانچے ملے، جن کا تعلق کسی قدیم سلطنت سے بتایا گیا جو معدنی توانائی پر تجربات کر رہی تھی۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ شاید انہی ذخائر سے نکلنے والی تابکاری لہروں نے ایک نایاب مظہر پیدا کیا۔ ایسا مظہر جو لمحہ بھر کے لیے زمان و مکان کو موڑ دیتا ہے۔ ممکن ہے فوجی مارے نہیں گئے، بلکہ کسی اور جہت میں منتقل ہو گئے ہوں۔
یہ خیال سن کر برطانوی حکومت نے تمام تحقیق روک دی اور “Kandahar Red Fort Incident” کو "Top Secret Classified" قرار دے دیا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق لندن کی نیشنل آرکائیوز میں اس واقعے سے متعلق چار فائلیں اب بھی بند الماری میں قید ہیں، جن پر صرف ایک جملہ درج ہے:
"Not a natural occurrence."
آج کا سرخ قلعہ: سیاح، خاموشی اور خوف
آج بھی سرخ قلعہ کے قریب مقامی لوگ سورج ڈھلنے کے بعد وہاں نہیں جاتے۔ سیاح دن کے وقت تصاویر لیتے ہیں مگر سورج ڈھلتے ہی قلعے کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ رات کے پچھلے پہر وہاں سے ہلکی گھنگھناہٹ یا دھات ٹکرانے کی آواز آتی ہے۔ کچھ نے روشنی کی جھلک دیکھی، کچھ نے فوجیوں کے سائے۔ اور کچھ، جو اندر گئے… واپس نہیں آئے۔
اختتام: قلعہ اب بھی سوال پوچھتا ہے — "وہ کہاں گئے؟"
صدیاں گزر گئیں، مگر سرخ قلعہ اب بھی قندہار کے آسمان کے نیچے ایک خاموش پہیلی بنا ہوا ہے۔ کبھی کبھی جب ہوا تیز چلتی ہے تو قلعے کی دراڑوں سے ایک سرگوشی سنائی دیتی ہے، جیسے کوئی اب بھی جواب چاہتا ہو۔ 'ہم