افغانستان کی فَرخندہ ملک زادہ — تعویز گنڈوں کی مخالفت، قرآن جلانے کا الزام اور المناک شہادت
افغانستان کی ایک تعلیم یافتہ اور جراتمند خاتون، فَرخندہ ملک زادہ، نے اپنے علم اور ایمان کی بنیاد پر ایک عام مگر خطرناک عمل کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ لوگوں کو جھوٹے تعویز، دعویٰ شدہ جادوی طاقتوں اور مذہبی دھوکہ دہی سے خبردار کرتی تھیں، تاکہ معاشرے میں فریب اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو۔
اسی بے باک حق گوئی نے اسے ایک جھوٹے الزام کی زد میں لا کھڑا کیا، اور چند ہی لمحوں میں وہ ایک مہلک ہجوم کے سامنے تنہا کھڑی تھی۔
فَرخندہ ملک زادہ کون تھیں؟
فَرخندہ ملک زادہ کابل میں رہنے والی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں جنہوں نے دینی علوم میں تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ سچائی، انصاف اور علم پر یقین رکھتی تھیں اور معاشرتی بیداری کے لیے سرگرم رہتی تھیں۔
فَرخندہ لوگوں کو جھوٹے تعویز، جعلی جادوی دعوؤں اور مذہب کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی سے آگاہ کرتی تھیں۔ وہ خواتین کے حقوق، تعلیم اور شعور کی علمبردار تھیں اور معاشرے میں اصلاح کی خواہاں تھیں۔
واقعے کا آغاز — جھوٹا الزام
مارچ 2015 میں کابل کے شاہ دو شمشیرہ کے علاقے میں ایک عام دن ایک المناک سانحے میں بدل گیا۔

فَرخندہ نے بلا جھجک اس دھوکے کے خلاف آواز بلند کی اور اسے لوگوں کو گمراہ کرنے والا عمل قرار دیا۔ اپنی کمائی کو خطرے میں دیکھ کر اس شخص نے اچانک فَرخندہ پر قرآن شریف جلانے کا جھوٹا الزام لگا دیا۔
یہ الزام بے بنیاد تھا، مگر اس نے لمحوں میں لوگوں کے جذبات بھڑکا دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہجوم جمع ہو گیا جو چیخ و پکار، تشدد اور نفرت میں بدلتا چلا گیا۔
ہجوم کا تشدد اور المناک شہادت
ہجوم نے فَرخندہ پر حملہ کر دیا۔ اسے لاتوں، مکوں اور ڈنڈوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک شخص نے اپنی گاڑی ہجوم میں گھسا دی، جس سے صورتحال مزید جان لیوا ہو گئی۔
پولیس اور سیکیورٹی اہلکار موقع پر موجود تھے، مگر ہجوم کو قابو میں نہ لا سکے۔ فَرخندہ کو زمین پر گرا کر کچلا گیا اور بعد ازاں اس کی لاش کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
سچائی کا انکشاف
واقعے کے بعد تحقیقات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ فَرخندہ نے

اصل مجرم وہ شخص تھا جو تعویز اور جعلی جادوی طاقتوں کا کاروبار کر رہا تھا۔ مگر وہ آج تک لاپتہ ہے اور قانون کی گرفت سے باہر ہے۔
گرفتاریاں اور سزائیں
فَرخندہ کے قتل کے بعد حکومت نے تحقیقات شروع کیں۔ تقریباً چالیس افراد کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے ہجوم میں حصہ لیا یا تشدد میں ملوث تھے۔
کچھ افراد کو قید کی سزائیں سنائی گئیں، مگر کئی بعد میں رہا ہو گئے یا انہیں معافیاں مل گئیں، جس سے انصاف کے عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھے۔
سبق — ایک معاشرے کے لیے آئینہ
فَرخندہ ملک زادہ کا سانحہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جھوٹے الزام، افواہیں اور ہجوم کی نفسیات کس طرح چند لمحوں میں انسانی جان لے سکتی ہیں۔
ایک تعلیم یافتہ اور باہمت خاتون صرف سچ بولنے کی پاداش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، جبکہ اصل ذمہ دار آج بھی آزاد ہے۔ یہ واقعہ افغانستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک دردناک اور سبق آموز باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔