1971 میں لاہور ایئرپورٹ پر بھارتی طیارہ ہائی جیکنگ اور بنگلہ دیش جنگ کا تاریخی واقعہ
1971 میں لاہور ایئرپورٹ پر بھارتی طیارہ گنگا کی اچانک لینڈنگ، مبینہ ہائی جیکنگ، بھارت کی فضائی پابندی، مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) سے رابطے کی بندش اور وہ تاریخی واقعہ جس نے بنگلہ دیش کی جنگ اور جنوبی ایشیا کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔
1971 میں لاہور ایئرپورٹ پر بھارتی طیارہ گنگا کی ہنگامی لینڈنگ
جہاز کے اندر کا ماحول اُس ہائی جیکنگ سے بالکل مختلف تھا جو عام طور پر ذہن میں آتی ہے۔ نہ گھبراہٹ، نہ چیخیں، نہ کوئی ہنگامہ۔ مسافر حیرت انگیز طور پر پر سکون بیٹھے تھے، جیسے کسی فلائٹ میں معمولی تاخیر ہوگئی ہو۔ کچھ لوگ باتیں کر رہے تھے، کچھ کھڑکیوں سے باہر جھانک رہے تھے۔ ہائی جیکرز کی حرکات میں بھی وہ گھبراہٹ یا شدت نہیں تھی جو ایک حقیقی ڈرامائی صورتحال میں ہوتی ہے۔ سب کچھ کچھ زیادہ ہی نارمل لگ رہا تھا—اتنا نارمل کہ بعد میں خود ان مسافروں نے کہا کہ انہیں لمحہ بھر کے لیے بھی یقین نہیں آیا کہ یہ واقعی ہائی جیکنگ ہے۔
بھارت کے الزامات اور لاہور لینڈنگ پر میڈیا کا شور
جب بھارتی طیارہ اچانک لاہور میں اترا تو پاکستان کے لیے یہ ایک گہرا معمہ تھا، سوال صرف یہ تھا کہ جہاز یہاں کیسے پہنچا—اور کیوں؟ لیکن بھارت میں تصویر بالکل مختلف دکھائی جا رہی تھی؛ اینکر چیخ رہے تھے کہ پاکستان نے طیارہ چُرا لیا ہے، کوئی کہہ رہا تھا کہ ہائی جیکرز کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے، تو کوئی اسے کھلی جارحیت بتا رہا تھا۔ حقیقت یہ کہ اُس وقت تک پاکستان کے پاس نہ کوئی مطالبہ تھا، نہ کوئی دعویٰ، نہ کوئی کنٹرول کا دعویٰ—صرف حیرت۔
ہائی جیکرز کی گرفتاری، تفتیش اور جعلی بم کا انکشاف
جب طیارہ لاہور میں

دونوں افراد ایسے بیٹھے تھے جیسے کسی نے انہیں پہلے سے سمجھا دیا ہو کہ گھبرانا نہیں، بس اسٹیج پلے پورا کرنا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی نے جب ان سے پوچھ گچھ کی تو ان کے بیانات میں غیر معمولی خلا نظر آئے۔ ان کے پاس موجود بم کھولا گیا تو پتا چلا کہ یہ بم نہیں بلکہ ایک خام، ناقابلِ استعمال، کمزور سا جعلی آلہ تھا۔
RAW کے مبینہ کردار اور پاکستان پر فضائی پابندی کی حقیقت
ہائی جیکنگ کے اس ڈرامے کے بعد بھارت نے فوری طور پر ایک غیر معمولی فضائی پابندی عائد کر دی، جس کے تحت پاکستان کے لیے بین الاقوامی فضائی راستے سختی سے محدود کر دیے گئے۔ یہ فیصلہ پاکستانی حکام کے لیے حیران کن تھا، کیونکہ اس سے نہ صرف تجارتی فلائٹس متاثر ہوئیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات پر بھی دباؤ پڑا۔
تاہم، جلد ہی تحقیقات سے ایک اور پہلو سامنے آیا، اس تمام منصوبے کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کی مداخلت کے شبہات پیدا ہوئے۔ ابتدائی شواہد اور بعد کے انٹیلیجنس رپورٹس سے ظاہر ہوا کہ یہ ہائی جیکنگ دراصل کسی سیاسی فائدے کے لیے اسٹیجڈ تھی، جس میں RAW نے نہ صرف ہائی جیکرز کی تربیت دی بلکہ ان کے بیانات اور واقعات کا سارا منظر نامہ بھی ترتیب دیا۔
بنگلہ دیش جنگ 1971 سے پہلے پاکستان کو تنہا

اصل منصوبے کا تعلق 1971 کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال سے تھا۔ اُس وقت مشرقی پاکستان میں بغاوت بڑھ رہی تھی، اور بھارت کی واضح خواہش تھی کہ پاکستان کا مشرقی بازو پوری طرح تنہا ہو جائے۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت نے ہائی جیکنگ کا ڈرامہ رچایا تاکہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے خلاف جواز بنایا جا سکے اور ساتھ ہی ایک ایسا قدم بھی اٹھایا جائے جو پاکستان کے لیے زخم کاٹ دینے کے مترادف تھا: ایسٹ پاکستان کے ساتھ فضائی رابطہ بالکل ختم کرنا۔
ہائی جیکنگ کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں، جس کے نتیجے میں مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان جانے والی تمام پروازیں بند ہو گئیں۔ پاکستان کو مجبوراً لمبا بحر ہند کا راستہ استعمال کرنا پڑا، جس نے مشرقی پاکستان کی سپلائی کو سست، مہنگا اور غیر مؤثر بنا دیا۔ یہ وہ اسٹریٹجک ضرب تھی جس نے بھارت کو 1971 کی جنگ میں فیصلہ کن فائدہ دیا۔
پاکستان کی سفارتی جیت اور 1971 ہائی جیکنگ کی تاریخی حقیقت
جب حقیقت پوری دنیا کے سامنے آئی کہ یہ ہائی جیکنگ جعلی تھی اور بھارت کے اندر سے اس کا اسٹیج ڈرامہ رچا گیا تھا، تو پاکستان کی سفارتی اور سیاسی پوزیشن مضبوط ہو گئی۔ عالمی ذرائع نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں رکھا، اور بھارت کی الزامات تراشی بے بنیاد ثابت ہوئی۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخی حقائق اکثر میڈیا کے شور اور سیاسی مقاصد کے پردے میں چھپ جاتے ہیں، اور کبھی کبھی وہ لمحے جو سب سے خطرناک لگتے ہیں، حقیقت میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور عجیب ہو سکتے ہیں۔