پاکستانی فضاؤں میں ایک انجان انڈین مگ 25 جہاز- پاکستانی ریڈارز جام

پاکستانی فضاؤں میں ایک انجان انڈین مگ 25 جہاز- پاکستانی ریڈارز جام

چھبیس مئی 1997 کی دوپہر پاکستان کی فضاؤں نے ایک عجیب اور چونکا دینے والا منظر دیکھا۔ بھارت کا انتہائی تیز رفتار جاسوس طیارہ MiG‑25 Foxbat، جو Mach 3 کے قریب رفتار اور 70 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اچانک پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔ ابتدا میں ریڈار اس کی ہلکی سی جھلک تو پکڑ رہے تھے مگر اس قدر بلندی اور رفتار کے باعث واضح ٹریک حاصل نہ ہو سکا۔ سرگودھا کے علاقے میں اچانک ایک زور دار دھماکے جیسی آواز گونجی — جو بعد میں MiG‑25 کے sonic boom کے طور پر شناخت ہوئی — اور اسی لمحے پورا ایئر ڈیفنس سسٹم الرٹ ہو گیا۔

پاکستان نے فوری طور پر F‑7P اور Mirage III طیارے scramble کیے، مگر MiG‑25 اتنی بلندی پر تھا کہ کوئی پاکستانی انٹرسیپٹر اسے پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔ چند ہی منٹوں میں وہ پاکستانی فضاؤں کا سروے مکمل کر کے دوبارہ بھارت کی جانب نکل گیا، پیچھے صرف دھماکے جیسی آواز، ریڈار کی مدھم سی لائنیں اور بے شمار سوالات چھوڑ کر۔

بعد ازاں پاکستانی فضائیہ کے ماہرین نے اعتراف کیا کہ یہ intrusion تکنیکی طور پر روکنا ممکن نہیں تھا، کیونکہ MiG‑25 کی رفتار اور بلندی اس دور کے ہمارے کسی بھی طیارے یا میزائل کی حد سے باہر تھی۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک غیر معمولی خلاف ورزی تھا بلکہ قومی دفاع کے نظام کے لیے ایک سخت reminder بھی کہ جدید دشمن صرف سرحدوں سے نہیں، آسمانوں کی بلندیوں سے بھی آزماتا ہے۔

جدید ترین ریڈارز کے باوجود پاکستان لاچار

پاکستان کے پاس اس وقت اپنے جدید ترین ground-based radars، AWACS، اور surveillance systems موجود تھے، جو عام حالات میں کسی بھی طیارے کی حرکت فوراً detect کر لیتے۔ مگر MiG‑25 کی انتہائی بلند پرواز، Mach 3 کے قریب رفتار، اور کم radar cross-section نے ان جدید سسٹمز کو بے بس کر دیا۔ ریڈار operators نے اسے دیکھنے کی ہر کوشش کی، مگر طیارے کی اونچائی اور رفتار کی وجہ سے اس کا ٹریک مدھم اور غیر مستحکم رہ گیا، جیسے کوئی چھایا لمحوں کے لیے چھپ جاتی ہو۔

پاکستان کے scramble pilots نے فوراً F‑7P اور Mirage III طیارے اڑائے، مگر MiG‑25 کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ وہ ہر انٹرسیپشن کوشش سے آگے نکل گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ صرف جدید

ٹیکنالوجی کافی نہیں۔

MiG‑25 کی خصوصیات اور رفتار

MiG‑25، جسے NATO نے "Foxbat" کہا، 1960 کی دہائی کے آخر میں سوویت یونین نے خاص طور پر بلند رفتار اور بلند پرواز کے جاسوسی اور انٹرسیپٹر مشنز کے لیے بنایا۔ اس کی لمبائی تقریباً 23.8 میٹر، پر کا پھیلاؤ 14 میٹر، اور خالی وزن تقریباً 20,300 کلوگرام تھا، جبکہ مکمل وزن 36,720 کلوگرام تک پہنچ جاتا تھا۔ اس کے دو طاقتور Tumansky R-15B-300 engines اسے Mach 2.8 سے Mach 3 کی انتہائی تیز رفتار فراہم کرتے تھے، جو اس وقت دنیا کے سب سے تیز طیاروں میں شمار ہوتی تھی۔

یہ طیارہ تقریباً 20,700 میٹر (68,000 فٹ) کی بلندی تک پرواز کر سکتا تھا، جو عام لڑاکا طیاروں اور زمین سے داغے جانے والے میزائلوں کی پہنچ سے کہیں اوپر تھی۔ طیارے کے nose cone اور پر کے اگلے حصے کو خاص دھات سے بنایا گیا تھا تاکہ اتنی زیادہ رفتار میں پیدا ہونے والی گرمی برداشت کی جا سکے۔ اس میں تقریباً 12,000 لیٹر ایندھن ہوتا تھا، جو طویل فاصلے کے مشنز کے لیے کافی تھا، اور ایک مشن کی حدود تقریباً 1,500 سے 1,800 کلومیٹر تک تھیں۔

MiG‑25 کا radar system اسے دشمن کے طیارے اور اہداف دیکھنے کی صلاحیت دیتا تھا، مگر اس کی بلند پرواز، تیز رفتار، اور محدود radar cross-section کی وجہ سے conventional ground-based radars کے لیے اسے مکمل طور پر ٹریک کرنا مشکل ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ، یہ طیارہ R-40 long-range missiles بھی لے جا سکتا تھا، لیکن reconnaissance مشنز میں اکثر بغیر ہتھیار کے استعمال ہوتا تھا۔

یہ تمام خصوصیات 26 مئی 1997 کے واقعے میں MiG‑25 کو تقریباً ناقابلِ ٹریک بنا دیتیں، کیونکہ پاکستانی scramble jets اور radar systems اس کی بلند پرواز اور Mach 3 کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ طیارے کا ہر structural design، طاقتور engines، اور cockpit کا جدید نظام pilot کو انتہائی حالات میں مکمل آگاہی دیتا تھا، اور یہی خصوصیات اسے Cold War کا سب سے خطرناک جاسوس اور انٹرسیپٹر طیارہ بناتی ہیں۔

بھارت کے MiG‑25: تعداد، اسکواڈرن، سرنوشت

بھارت نے تقریباً 10 MiG‑25 طیارے خریде تھے — ان میں 8 تنہا نشست والے reconnaissance ورژن (MiG‑25R) اور 2 twin‑seat تربیتی/ریکنسیانس ورژن (MiG‑25U) شامل تھے۔ ہندوستانی فوج میں یہ طیارے پہلی بار 17 اگست 1981 کو induct ہوئے، جب اسکواڈرن نمبر 102 قائم کی گئی۔ بعد میں یہ یونٹ رک گئی

تھی اور MiG‑25s کی ذمہ داری اسکواڈرن 35 نے سنبھالی تھی۔

وقت کے ساتھ، یہ معلوم ہوا کہ MiG‑25 طیاروں کی دیکھ بھال، پرزوں کی فراہمی، اور فضائی جاسوسی کے نئے طریقوں (جیسا کہ سیٹلائٹ اور unmanned drones) نے ان کی کارکردگی کو کم کر دیا۔ نتیجتاً، 1 مئی 2006 کو Indian Air Force نے باضابطہ طور پر باقی ماندہ MiG‑25s کو ریٹائر کر دیا — یعنی وہ اس وقت active service میں نہیں رہے۔ بعض crashes ہوئے تھے — مثال کے طور پر ابتدائی دنوں میں ایک طیارہ test flight کے دوران تباہ ہوا، اور 1985 میں ایک MiG‑25 approach کے دوران گر کر pilot مارا گیا تھا۔

پاکستان کی فوجی تیاری اور حیرت انگیز خاموشی

جب MiG‑25 پاکستان کی فضاؤں میں داخل ہوا، تو فوری طور پر پاکستان کے air defence systems الرٹ ہو گئے۔ تمام ground-based radars اور early warning systems active کر دیے گئے، اور سرحدی علاقوں کے اسکواڈرنز کو scramble کا حکم دیا گیا۔ F‑7P اور Mirage III طیارے چند منٹوں میں اڑان بھرنے کے لیے تیار ہوئے، لیکن دشمن کی بلند پرواز اور Mach 3 کی رفتار نے انٹرسیپشن کو انتہائی مشکل بنا دیا۔

حیران کن بات یہ تھی کہ مکمل الرٹ اور تیاری کے باوجود MiG‑25 کو پکڑنا ممکن نہیں تھا، اور پورے واقعے کے دوران فضائی حدود میں کوئی براہِ راست تصادم نہیں ہوا۔ پاکستانی عملہ خاموشی اور سکون کے ساتھ اپنے post پر موجود رہا، ہر pilot اور radar operator ہر لمحے چوکنا تھا، اور ہر حرکت کا حساب رکھا گیا۔

پاکستان کا ردِعمل اور مستقبل کی تیاری

MiG‑25 کے غیر معمولی داخلے کے بعد پاکستان نے فوراً اپنی فضائی نگرانی اور دفاعی نظام کا جائزہ لیا۔ اس واقعے کے بعد ریڈار کوریج میں بہتری، سرحدی علاقوں میں تیز ردِعمل دینے والے اسکواڈرنز کی تعیناتی، اور نئے air defence systems کے منصوبے تیزی سے آگے بڑھائے گئے۔ پاکستان نے اپنی فضائیہ میں ایسے طیاروں اور ٹیکنالوجی کو شامل کرنا شروع کیا جو زیادہ بلندی اور زیادہ رفتار والے دشمن طیاروں کا مقابلہ کر سکے۔ اسی دور میں F‑16 کی اپگریڈیشن، Mirage پروگرام کی مضبوطی، اور بعد میں JF‑17 جیسے منصوبوں نے رفتار پکڑی۔ یہ واقعہ ایک ایسے موڑ کی طرح ثابت ہوا جس کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی نگرانی، زمینی ریڈارز، اور فضائی ردِعمل کے پورے نظام کو زیادہ مضبوط، مربوط اور جدید بنانے پر توجہ دی۔