PK404 — ایک پرواز جو کبھی واپس نہ آئی - ہائ جیکنگ کا مفروضہ یا بھارتی فضائی حدود کا معمہ

PK404 — ایک پرواز جو کبھی واپس نہ آئی - ہائ جیکنگ کا مفروضہ یا بھارتی فضائی حدود کا معمہ

پچیس اگست انیس سو اناسی... گلگت کی وادیوں میں سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا کہ پی آئ اے کا ایک چھوٹا سا فوکر طیارہ — پرواز نمبر پی کے فور زیرو فور— اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔ پچاس سے کچھ زیادہ مسافر، چند امیدیں، کچھ خواب، اور سب کی منزل ایک ہی — گھر، دفتر، محبت یا ملاقات۔

لیکن چند منٹ بعد… ریڈیو خاموش ہو گیا۔ کوئی سگنل نہیں، کوئی رابطہ نہیں، کوئی شور نہیں۔ بس پہاڑوں کے درمیان ایک خاموشی جو آج تک نہیں ٹوٹی۔

🕯️ ایک معمولی پرواز جو پاکستان کا سب سے بڑا فضائی معمہ بن گئی

یہ پرواز گلگت سے روانہ ہوئی اور صرف پانچ منٹ بعد لاپتہ ہو گئی۔ نہ کوئی "مے ڈے" کال، نہ کوئی ایس او ایس سگنل۔ ایسا لگا جیسے جہاز ہوا میں تحلیل ہو گیا ہو۔ تلاش شروع ہوئی۔ فوج، پولیس، مقامی رضاکار — سب نے ہمالیہ کے برف پوش پہاڑ چھان مارے۔ ہیلی کاپٹر اُڑے، مگر نیچے بس برف، چٹانیں اور گہری خاموشی۔ نہ کوئی ملبہ، نہ کوئی لاش، نہ کوئی ثبوت۔

🏔️ پہاڑوں میں گم — یا کسی راز میں چھپ گیا؟

مہینوں تک تلاش جاری رہی۔ پھر آہستہ آہستہ سب خاموش ہو گئے۔ لیکن سوال زندہ رہا — پی کے فور زیرو فور گیا کہاں؟

کچھ کہتے ہیں، طیارہ کسی برفانی چوٹی سے ٹکرا کر بکھر گیا، اور برف نے اسے اپنے اندر دفن کر لیا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جہاز نے غلط سمت اختیار کی، اور کنٹرول لائن پار کرتے ہی بھارتی ریڈار نے اسے گرا دیا۔ حکومت نے کہا "تلاش جاری ہے"، مگر وقت کے ساتھ تلاش بھی مٹی میں دب گئی۔

⚙️ تھیوریز — حقیقت یا کہانی؟

• پہاڑی حادثہ تھیوری — کہا جاتا ہے کہ جہاز بادلوں اور برف میں گھِر گیا۔ پائلٹ نے سمت کھو دی۔ طیارہ پہاڑ سے ٹکرایا، اور برفانی تودوں نے سب کچھ چھپا دیا۔

• موسمیاتی تھیوری — اس دن شمالی علاقے میں شدید بارش اور بادل تھے۔ ممکن ہے طوفانی ہوا نے جہاز کو نیچے دھکیل دیا ہو۔

• ریڈار اندھا خطہ تھیوری — گلگت اور اسلام آباد کے درمیان ایک حصہ

ایسا ہے جہاں ریڈار سگنل نہیں پہنچتے۔ ممکن ہے جہاز اسی "اندھے علاقے" میں گم ہو گیا ہو۔

• بھارتی فضائی حدود کا معمہ — غلطی یا گولی
کہانی یہیں سے ڈرامائی موڑ لیتی ہے۔ کچھ غیر مصدقہ مگر مسلسل گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق، پی کے فور زیرو فور نے پرواز کے چند منٹ بعد غلط سمت اختیار کر لی۔ گلگت کے پہاڑی راستوں میں ریڈار سگنلز کمزور ہو جاتے ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ جہاز معمولی غلط زاویے سے مڑ کر لائن آف کنٹرول کے قریب جا پہنچا۔ اس وقت پاک-بھارت سرحد پر حالات کشیدہ تھے۔ ایک سابقہ پی اے ایف افسر کے مطابق، بھارتی ریڈارز نے ایک “نامعلوم درانداز” کی نشاندہی کی اور ممکن ہے کہ اسے خطرہ سمجھ کر مار گرایا گیا ہو۔ بعض عینی شاہدوں کا کہنا تھا کہ اس روز بلتستان کی جانب دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دیں، مگر حکومت نے انہیں "افواہ" قرار دیا۔

• اغوا کا مفروضہ — “پرواز جو کہیں اور اتر گئی”
یہ تھیوری شاید سب سے سنسنی خیز ہے۔ کچھ مسافروں کے اہلِ خانہ نے برسوں بعد دعویٰ کیا کہ انہیں نامعلوم نمبروں سے فون کالز موصول ہوئیں، جن میں کوئی شخص صرف اتنا کہتا: “ہم زندہ ہیں… لیکن نہیں بتا سکتے کہاں ہیں۔” اس کے بعد کال بند ہو جاتی۔ کچھ نے دعویٰ کیا کہ چترال کے ایک مقامی چرواہے نے ایک چھوٹا جہاز کسی دور افتادہ وادی میں اترتے دیکھا، جہاں فوجی لباس میں کچھ لوگ موجود تھے۔

ایک سازشی محقق کے مطابق، اگر طیارے کو کسی خفیہ گروہ نے اغوا کیا، تو ممکن ہے اسے کسی خفیہ فوجی اڈے یا پہاڑی پناہ گاہ میں اتارا گیا ہو۔ لیکن سوال یہی ہے — کس نے؟ کیوں؟ اور اتنے برس بعد بھی خاموشی کیوں؟ پی آئ اے کے کچھ سابق پائلٹس کا کہنا ہے کہ فوکر پی کے فور زیرو فور کے ایندھن میں اتنا سفر ممکن نہیں تھا کہ وہ بھارت یا افغانستان تک پہنچتا۔ لیکن اگر اسے زبردستی موڑ دیا گیا ہو؟ تو یہ معمہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

• حکومتی پردہ پوشی — “سچ کو دفن کر دیا گیا”
کچھ ریٹائرڈ افسران اور تحقیقاتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ پی کے فور زیرو فور کے

متعلق کچھ “فوجی دستاویزات” برسوں بعد دباؤ میں غائب کر دی گئیں۔ ایک پرانا پی آئ اے انجینئر دعویٰ کرتا ہے کہ حادثے کے اگلے دن اسلام آباد ایئر ٹریفک کنٹرول سے کچھ ریکارڈ غائب کیے گئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق، حکومت نے “قومی سلامتی” کے نام پر تلاش کے علاقے کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ کچھ حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جہاز کے تباہ ہونے کا مقام معلوم تھا مگر وہ علاقہ فوجی حساسیت کے باعث بند کر دیا گیا۔ اسی لیے عوام کو “لاپتہ” کی کہانی سنائی گئی۔ کچھ سچائیاں وقت کے ساتھ دفن ہو جاتی ہیں، لیکن پی کے فور زیرو فور کی کہانی ایک ایسی قبر ہے جس پر خاموشی کا پتھر ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ شاید کبھی برف پگلے، شاید کبھی کوئی حقیقت زمین سے باہر آئے — مگر تب تک یہ کہانی پاکستان کی تاریخ کا سب سے پُر اسرار فضائی باب بنی رہے گی۔

✈️ اختتام — کبھی نہ اترنے والی پرواز

گلگت سے اسلام آباد تک کے گھروں میں آج بھی کچھ دروازے آدھے کھلے ہیں — کوئی ماں اب بھی بیٹے کے لوٹ آنے کی آس رکھتی ہے، کوئی بہن اب بھی دروازہ کھٹکنے کی امید۔ مگر وقت گزرتا گیا، اور پی کے فور زیرو فور ایک نمبر سے بڑھ کر ایک زخم بن گیا۔ ٹیکنالوجی آگے بڑھ گئی، سیٹلائٹس زمین کے اندر جھانکنے لگے، مگر اس طیارے کا ایک پیچ تک نہ ملا۔ کچھ نے برفانی چوٹیوں پر تلاش کی، کچھ نے گوگل ارتھ پر نشانات ڈھونڈے — جواب وہی: کچھ نہیں۔ شاید وہ کسی برف کے نیچے چھپا ہے، شاید کبھی تھا ہی نہیں — بس ایک راز، ایک کہانی، ایک نام۔ پی کے فور زیرو فور پاکستان کی فضائی تاریخ کا سب سے پراسرار باب ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی بہت شور کرتی ہے۔ جہاز، مسافر، اور خواب — سب آسمان کے اُس پار گم ہو گئے، مگر کہانی آج بھی زندہ ہے…

ہر بار جب کوئی طیارہ گلگت کی فضا سے گزرتا ہے، تو شاید وہ پی کے فور زیرو فور کے ملبے پر سے ہی گزر رہا ہوتا ہے — ایک ایسی پرواز جو منزل سے پہلے ہی آسمان کی مٹی بن گئی۔