عمران خان کرکٹ کے بادشاہ کی کہانی پر ایک نظر - وہ کپتان جس نے پاکستان کو عالمی چیمپئن بنایا
لاہور, 25 مارچ 1992، قذافی اسٹیڈیم , جب عمران خان نے اپنے کیریئر کی آخری گیند پھینکی، تو پورا میدان “خان! خان!” کی گونج سے لرز اٹھا۔ وقت جیسے تھم گیا ہو — ایک عہد ختم ہوا، مگر ایک داستان زندہ رہ گئی۔ آج، اسی یاد سے ہم عمران خان کی کرکٹ زندگی پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔
ابتدائی زندگی — ایک خوابوں سے بھرا سفر
عمران احمد خان نیازی 5 اکتوبر 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد اکرام اللہ نیازی ایک سول انجینئر تھے جبکہ والدہ شوکت خانم گھرانے کی مضبوط ستون تھیں۔
ابتدائی تعلیم ایچیسن کالج لاہور سے حاصل کی، جہاں ان کی کرکٹ سے محبت نے جنم لیا۔
بعد ازاں، وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی گئے — جہاں پڑھائی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی کرکٹ کی صلاحیتوں کو نکھارا۔
کرکٹ کا آغاز — ایک عام لڑکے سے لیجنڈ تک
لاہور کے زمان پارک میں پیدا ہونے والے عمران خان نے بچپن ہی سے کرکٹ سے لگاؤ رکھا۔
محض 19 سال کی عمر میں 1971 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا، جہاں ان کی تیز رفتار بولنگ اور “ریورس سوئنگ” نے سب کو حیران کر دیا۔
جلد ہی وہ پاکستان کے خطرناک ترین بولرز میں شمار ہونے لگے
عمران خان کے کرکٹ کیریئر کے تفصیلی اعداد و شمار
عمران خان، پاکستان کے عظیم آل راؤنڈر، نے اپنے کرکٹ کیریئر میں ٹیسٹ اور ون
بطور بولر، عمران نے ٹیسٹ میں 362 اور ون ڈے میں 182 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین بولنگ ٹیسٹ میں 8/58 (بمقابلہ سری لنکا) اور ون ڈے میں 6/14 (بمقابلہ بھارت) رہی۔ بطور کپتان انہوں نے 48 ٹیسٹ اور 139 ون ڈے میچز میں قیادت کی، جن میں سے 14 ٹیسٹ اور 77 ون ڈے پاکستان نے جیتے۔ 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی، مگر ان کے اعداد و شمار آج بھی ان کی آل راؤنڈر مہارت کی گواہی دیتے ہیں۔
ریٹائرمنٹ اور دوبارہ واپسی
عمران خان نے مسلسل انجریز اور ٹیم کی ناقص کارکردگی سے مایوس ہو کر ایک وقت کرکٹ چھوڑ دی تھی۔ مگر جلد ہی قسمت نے اُنہیں پھر سے میدان میں بلا لیا۔ اُس وقت کے وزیراعظم جنرل ضیاء الحق نے ذاتی طور پر اُن سے واپسی کی درخواست کی — یہ کہتے ہوئے کہ “قوم کو تمہاری ضرورت ہے”۔
عمران خان نے ایک بار پھر کرکٹ کا لباس پہنا، اور اس بار صرف کھلاڑی نہیں بلکہ ایک قائد بن کر واپس آئے
عروج — وہ لمحہ جس نے تاریخ بدل دی (1992 ورلڈ کپ)
1992 کا ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت کا سنہری باب تھا۔ جب پاکستان آغاز میں ناکامیوں سے دوچار تھا، تو عمران خان نے کہا: “ہم آخر دم تک لڑیں گے — جیسے شیر
قیادت کا امتحان — جب انضمام بیمار تھے
ورلڈ کپ 1992 کے سیمی فائنل میں انضمام الحق شدید بیمار تھے، کھیلنا تقریباً ناممکن لگ رہا تھا۔ انہوں نے عمران خان سے کہا، “میری طبیعت ٹھیک نہیں، شاید نہ کھیل سکوں۔”
عمران نے پُراعتماد لہجے میں جواب دیا:
“بس میدان میں اتر جاؤ — باقی میں دیکھ لوں گا۔”
یہی الفاظ حوصلہ بن گئے، اور انضمام نے 60 رنز کی تاریخی اننگز کھیل کر پاکستان کو فائنل میں پہنچا دیا۔
بعد میں انضمام نے کہا، “عمران خان کا یقین میری طاقت بن گیا تھا۔”
کرکٹ سے آگے کا سفر
ورلڈ کپ کی فتح کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کی یاد میں شوکت خانم کینسر اسپتال کی بنیاد رکھی —
ایک ایسا خواب جس پر ابتدا میں کسی کو یقین نہیں تھا، مگر عمران خان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ اگر نیت سچی ہو تو ناممکن کچھ نہیں۔ آج وہ اسپتال اُن کے عزم، خدمت اور قیادت کا زندہ نشان ہے —
عمران خان نے جب گیند کو چھوڑا تو قیادت کو نہیں چھوڑا — کرکٹ کے میدان سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا، اور وہی جذبہ انہیں پاکستان کا وزیرِاعظم بنا گیا۔
“میں نے ہمیشہ خود پر یقین رکھا — جب کوئی یقین نہیں کرتا تھا۔”
"عمران خان"