محسنِ پاکستان ڈاکٹرعبد القدیرخان - ایک خفیہ مشن، ایک قوم کا خواب
پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی ایک شخص کو "محسنِ پاکستان" کہنے کا حق ہے تو وہ بلاشبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں — وہ سائنسدان جنہوں نے ایک خواب کو حقیقت میں بدلا اور قوم کو وہ طاقت دی جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ اسی پس منظر میں، اس مضمون میں ہم اُن کی زندگی، جدوجہد اور عظیم کامیابیوں کا احاطہ کریں گے۔
آغازِ زندگی
یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہونے والے عبدالقدیر خان نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کو اپنا وطن بنایا۔ تعلیم سے ان کی محبت نے انہیں کراچی یونیورسٹی تک پہنچایا، جہاں سے انہوں نے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ کا رخ کیا اور جرمنی و ہالینڈ میں سائنسی تحقیق سے وابستہ رہے۔ انہیں ہالینڈ کی مشہور “Uranium Enrichment Plant” میں کام کرنے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے عملی پہلوؤں پر گہری نظر ڈالی — وہی علم بعد میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد بنا۔
وطن کی پکار
1974 میں بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد، ایک پاکستانی سائنسدان کے دل میں آگ بھڑک اٹھی۔ وہ سمجھ گئے کہ اگر پاکستان نے اپنے دفاع کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل نہ کی تو آنے والی نسلیں غلامی کے خوف میں جیئیں گی۔ چنانچہ انہوں نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کے ایٹمی سفر کی بنیاد رکھی گئی۔
خان ریسرچ لیبارٹریز اور ایٹمی خواب
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے "کاہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز" کی بنیاد رکھی، جو بعد میں ان کے نام سے مشہور ہوئی۔ شب و روز کی محنت، سائنسی مہارت، اور بے مثال قومی جذبے کے ساتھ انہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جو بڑے بڑے ممالک کے لیے خواب تھا۔
28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں جب زمین ہلی، تو دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ ایک مسلمان ملک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ اس لمحے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو گیا — اور یہ سب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قیادت کا ثمر تھا۔
⚔️ خطرے کے سائے
کہوٹہ کے دن صرف تحقیق کے نہیں، خطرے کے بھی تھے۔ ایک رات لیبارٹری کے اوپر ایک نامعلوم ڈرون
“ڈر کیوں رہے ہو؟ میں نے یہ پروگرام کسی سے مانگا نہیں، اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے — کوئی اسے چھین نہیں سکتا۔”
کچھ عرصے بعد وہ اسلام آباد سے کہوٹہ جا رہے تھے جب اُن کی گاڑی کا پیچھا ایک نامعلوم گاڑی نے شروع کر دیا۔ اطلاع ملی کہ اُن پر غیر ملکی ایجنسیوں کی نظر ہے۔ مگر وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے:
“اگر میں ڈر گیا تو پاکستان کمزور ہو جائے گا۔”
یہ جملہ اُن کے ساتھیوں کے لیے ایمان بن گیا — اور خوف کے سائے بھی اُن کے عزم کو مٹا نہ سکے۔
جب اُن پر نیوکلیئر پروفِیلیئریشن کا الزام لگا
جنوری 2004 میں انٹرسروسز انٹیلی جنس اور حکومتِ پاکستان کو بیرونی ایجنسیوں — خصوصاً امریکی انتظامیہ — کی طرف سے ایسے ثبوت موصول ہوئے جو اشارہ کرتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک بین الاقوامی نیوکلیئر سپلائی نیٹ ورک کے مرکز تھے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو سینٹرفیوج کمپوننٹس، ڈیزائن اور دیگر کلیدی مادّات فراہم کیے گئے — جو ایٹمی افزودگی کے لیے ضروری تھے۔
31 جنوری 2004 کے آس پاس ان کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور چند دن بعد (4–5 فروری 2004) ڈاکٹر صاحب نے پاکستانی سرکاری ٹی وی پر ایک عمومی معافی/اعترافی بیان دیا، جس میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اُن کے کردار سے باہر کچھ لوگ غیر قانونی طور پر ٹیکنالوجی منتقل کر چکے ہیں۔ اسی موقع پر حکومت نے انہیں مؤقت طور پر اپنے گھر تک محدود رکھا — یعنی عملاً گھر میں نظر بند کیا گیا۔
اس کے بعد ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوا: بین الاقوامی حلقوں نے اس کو عالمی سلامتی کا خطرہ قرار دیا، اور پاکستان کے اندر یہ سوال اٹھا کہ کیا یہ نیٹ ورک حکومتی علم یا حمایت کے بغیر کام کر رہا تھا؟ کچھ رپورٹس کے مطابق نیٹ ورک میں کاروباری مڈل مین اور بین الاقوامی لنکس شامل تھے — اور تحقیقات نے ثابت کیا کہ فروخت شدہ سامان نے کم از کم تین ممالک کے ایٹمی پروگراموں کو مدد دی۔
بعد ازاں حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر خان
💬 ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے شکوے اور جذبات
زندگی کے آخری برسوں میں دیے گئے چند انٹرویوز میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لہجے میں ایک عجیب سا درد جھلکتا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے:
“میں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، لیکن آخر میں مجھے اپنے ہی ملک میں قید کر دیا گیا۔ میں نے دولت نہیں مانگی، عزت چاہی تھی — وہ بھی چھین لی گئی۔”
ایک نجی گفتگو یا انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کھل کر کہا کہ اُن کے ساتھ وہ سلوک درست نہیں جو ایک محبِ وطن سائنسدان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت نے ان کے کمرے میں خفیہ کیمرے لگوا دیے تھے اور مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
“کیا میں کوئی بچہ ہوں؟ کیا آپ مجھے ایسے دیکھ رہے ہیں؟ میں ایک ایٹمی سائنسدان ہوں۔”
یہ جملہ ان کی رنجیدہ انا اور اس احساسِ تنہائی کا عملی اظہار تھا — ایک انسان جس نے قوم کے لیے دن رات محنت کی، پھر بھی خود کو مشتبہ اور نظر بند محسوس کیا۔
آخری سفر اور زندہ وراثت
10 اکتوبر 2021 کو جب قوم نے اپنے محسن کو الوداع کہا، تو پورا ملک سوگوار تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں، بلکہ تاریخ کے صفحات پر امر ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام آج بھی ہر محبِ وطن کے دل میں زندہ ہے — وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جذبہ، ایمان، اور عزم ہو تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
اختتامی سطر:
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف ایک سائنسدان نہیں تھے، وہ ایک خواب، ایک نظریہ، اور ایک احساس کا نام ہیں — پاکستان زندہ ہے، کیونکہ اس کے بیٹے زندہ ہیں۔ 🇵🇰